ریل انجن پر سفر کرنے کو مجبور ہیں لوگ

سہرسہ… ( تصور)… ایک طرف مانسی سہرسہ ریل سیکشن پر ان دنوں مدھے پورا تک الیکٹرک وائرنگ کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے تو دوسری طرف آج بھی اس سیکشن پر انجن پر بھی بیٹھ کر سفر کرنے کو مجبور ہیں لوگ.

مدھے پورا ریل انجن کارخانہ کا پہلا انجن تیار ہے اور اسکو فی الحال کارخانہ کے احاطے میں لگاتار ٹرائل کے مرحلے سے گزارا جا رہا ہے. اگرچہ 26 فروری کو ہی ٹرائل کے لئے باہر لائے جانے کا فیصلہ لیا گیا تھا مگر اس کو آگے بڑھا دیا گیا ہے..ایسی   امید کی جا رہی  ہے کہ مدھے پورا سہرسہ مانسی ریل سیکشن پر الیکٹرک پاور وائرنگ مکمل طور پر ھوتے ہی نئ تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا.
اس درمیان سمری بختیار پور ریلوے اسٹیشن پر بھی جدید کاری کا کام زور شور سے جاری ہے. ایک طرف جہاں پلیٹ فارم کو اونچا کر دیا گیا ہے وہیں پلیٹ فارم نمبر ایک پر جنوب طرف مسافروں کے سہولیات کے لئے شیڈ ڈال دیا گیا ہے. ادھر پلیٹ فارم نمبر دو پر بھی سست رفتاری سے کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے. سمری بختیار پور ریلوے اسٹیشن کے باہری حصے میں سیمنٹ  اینٹ لگ جانے،  فٹ اوور برج کے بن جانے، پلیٹ فارم کا اونچا اور جدید کاری والا کام ہونے اور الیکٹرک پاور وائرنگ کا کام ہو جانے کے بعد ایک چھوٹا سا اسٹیشن بھاری بھر کم لگنے لگا ہے اور اسٹیشن کے خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا ہے.
اس درمیان مانسی سہرسہ ریل سیکشن پر بہت سارے سہولیات فراہم کرائے جانے کے با وجود  ٹرین کے ٹائم ٹیبل کا صحیح ایڈجسٹمنٹ نہیں ہونے کی وجہ سے آج بھی لوگ جان خطرے میں ڈال کر ڈبہ میں لٹک کر یا انجن پر چڑھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں. دراصل سمستی پور سے سہرسہ جانے والی ٹرین 55566 دس بجے تک سہرسہ پہنچ جاتی ہے اس وجہ سے عام مسافروں کے ساتھ ساتھ آفس، کچہری اور اسکول کالج والے پسنجر بھی اس سے چلتے ہیں اس وجہ سے ٹرین میں بھاری بھیڑ عام بات ہے جس کی وجہ سے جان خطرے میں ڈال کر انجن پر چڑھ کر اور ڈبہ کے ہینڈل میں لٹک کر لوگ سفر کرنے کو مجبور ہو جاتے ہیں.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *