سہرسہ میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کا پرامن جلوس 14 مارچ کو

سہرسہ…  (نمائندہ )..مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر سہرسہ ضلع ہیڈ کوارٹر میں   آئندہ 14  مارچ  کو طلاق ثلاثہ بل کے خلاف   خواتین کے پرامن مظاہرہ اور جلوس کو کامیاب بنانے کے لیے شہر کے مختلف وارڈوں اور اطراف کے مقامات پر  بیداری مہم تحریک کا سلسلہ جاری ہے. اسی سلسلے میں میر ٹولہ جامع مسجد میں علماء اور دانشوروں کی ایک میٹنگ مفتی یوسف صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی.
 اس موقع پر اپنے خطاب میں جامع مسجد سہرسہ بستی کے امام مولانا سہراب ندوی نے شریعت کی اہمیت اور موجودہ حکومت کی پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ہمہ گیر اور آفاقی مذہب ہے، جس نےزندگی کے تمام گوشے میں ہماری رہنمائ کی ہے، اسلام کا قانون خالق کائنات کا بنایا ہوا قانون ہے،یہ مکمل اور مدلل ہے، یہ ابدی قانون ہے، مسلمان اللہ کے قانون سے مطمئن ہیں، خالق کائنات کے  قانون میں تبدیلی کو مسلمان کسی بھی قیمت میں برداشت نہیں کرسکتا ہے. اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  سابق وزیر ڈاکٹر عبدالغفور   نے کہا کہ اللہ کا قانون قیامت تک کے لئے ہے اور اس میں کسی بھی رد وبدل کی گنجائش نہیں ہے اور ہندوستانی آئین نے جو مذہبی آزادی دی ہے طلاق ثلاثہ بل اس کے بھی خلاف ہے. اسلئے پورے ملک کا مسلمان کافی امن اور شانتی کے ساتھ آئین کے دائرے میں رہ کر اس بل کو واپس لینے کی مانگ کر رہے ہیں.
اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر ڈاکٹر ابوالکلام اور پروفیسر محمد طاہر نے بتایا کہ سہرسہ  کے مرد و خواتین کا ایک پر امن جلوس 14 مارچ  کو 10 بجے پٹیل میدان  سے کلکٹریٹ پہنچ کر صدر جمہوریہ اور حکومت ہند کے نام ایک میمو رنڈم ضلع مجسٹریٹ  کو سونپ کر طلاق ثلاثہ بل کو واپس لینے کی مانگ کرینگے.
میٹنگ میں مولانا آفتاب عالم ندوی، مفتی محمد منظور، ڈاکٹر محمد طارق، محمد محبوب، قاری نوراللہ، محمد جیبو، مولانا عبدالصمد، مولانا ظہیر، قاری عیسی، ڈاکٹر محمد معیز الدین، محمد آزاد، قاری محمد مشتاق، محمد اویس وغیرہ سمیت بہت سے لوگ شامل تھے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *