سچ کی جیت ہوگی: کنہیا کمار

جے این یو میں کنہیاکمار کی تقریر سنتے ہوئے ہزاروں افراد
جے این یو میں کنہیاکمار کی تقریر سنتے ہوئے ہزاروں افراد

نئی دہلی ، ۳؍ مارچ (نامہ نگار): جواہرلعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمار نے دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد کہا کہ وہ بھارت میں کمزوروں ، پسماندوں اور اقلیتوں کی آزادی چاہتے ہیں اور ان لوگوں سے آزادی چاہتے ہیں جو ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے جے این یو ایڈمنسٹریٹو بلاک کے نزدیک یونیورسٹی برادری کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے ان سبھی لوگوں کا شکریہ اداکیا جو اس لڑائی میں سچائی کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے آرایس ایس اور حکمراں جماعت بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غریبی ، بے روزگاری ، بھوک مری، نابرابری اور عوام کو فریب دینے والوں سے آزادی کا مطالبہ کرنا ملک دشمنی نہیں ہے۔

کنہیا کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ’سچ کی جیت‘ کی بات کہی ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ سچ کی جیت ہوگی۔ لیکن اس سچ کی جیت ہوگی جو واقعی سچ ہے ، اس کی نہیں جوباربار جھوٹ بول کر بنانے اور بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قومی پرچم ترنگا کے سائے تلے کم وبیش ۵۰ ؍ منٹ تک تقریر کرنے والے کنہیا کمار نے کہا کہ انہیں ملک کے آئین پر پورا بھروسہ ہے اور اسی آئین میں درج باتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جو کامیابی ملنے تک جاری رہے گی۔ گذشتہ ۲۰؍ دنوں کے اپنے کئی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے جے این یو کے طالب علموں سے کہا کہ بڑی تعداد میں ملک کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔ ضرورت ہے ان کی زبان میں اور ان کی سطح پر ان سے بات کرنے کی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملک کے اکثریتی عوام کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ۶۹؍فیصد رائے دہندوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا تھا اور جن ۳۱؍ فیصد ووٹروں نے انہیں ووٹ دیا ان میں بہت سے ایسے تھے جو بہکاوے میں آگئے ۔

کنہیا کمار نے اپنی تقریر سے پہلے اور بعد میں بہت دیر تک آزادی آزادی کے نعرے لگائے جس میں وہاں موجود طلبہ اور یونیورسٹی برادری کے دوسرے لوگوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *