حالات بدلنے کے لئے پہلے خود کو بدلنا ہوگا… امیر شریعت مولانا ولی رحمانی

✍️ وجیہ احمد تصور کے قلم سے

آج جناب مولانا محمد مظاہر صاحب قاسمی، جناب حافظ محمد ممتاز رحمانی اور جناب محمد سلطان احمد کے ہمراہ امارت شرعیہ کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ خصوصی تربیتی اجلاس میں شرکت اور حضرت امیر شریعت و جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جناب مولانا ولی رحمانی صاحب کی بصیرت افروز تقریر سننے کی سعادت نصیب ہوئی. مولانا ولی رحمانی صاحب نے معاملات، معاشرات، عبادات پر جم کر کلاس لیا اور فرمایا کہ اللہ اور نبی کے فرمان کے مطابق زندگی گذارنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ہم منمانی زندگی کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں .
ہم نے کبھی غور کیا کہ ہمارے معاملات الجھے ہوئے کیوں ہیں،؟ ذاتی مسئلے اور ذاتی ضرورتوں کو انجام تک پہنچانے کا ہمارے اندر پوری صلاحیت ہے اور پوری مستعدی کے ساتھ کرانے کا ہنر بھی ہے مگر ملی اور جماعتی کاموں کے لئے فرصت نہیں، اس کے لیے عقل نہیں، وقت نہیں بہت مشغول ہیں. ملت کے کام کے لئے وقت اس لئے نہیں ملتا ہے کیونکہ جذبہ نہیں ہے – ملی اور جماعتی کام کے لئے وقت نہیں ملتا جس کے نتیجے میں ذاتی کام ترقی کرتا جاتا ہے اور ملی کام دھرے رہ جاتے ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں اور ہماری ترقی ہی سے ملت کی ترقی ہوجائیگی جو بالکل غلط ہے. آپ نے فرمایا کہ اسلام میں ذات پات، اونچ نیچ کا کوئی تصور نہیں ہے یہ تو سیاست کے مہرے ہیں اسلام نے افضل ہونے کا معیار تقویٰ، پرہیزگاری پر رکھا ہے ذات پات پر نہیں. اجتماعیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اجتماعی ضرورتوں کا احساس نہیں، اجتماعی کاموں کے خرچ کا مزاج نہیں اس وجہ سے ہماری قوم مشاعرے و دیگر فضولیات میں تو ایک رات میں آٹھ دس لاکھ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں مگر تعلیمات کے لئے، مدرسہ اساتذہ کے تنخواہ کے لئے، مسجد کے امام اور موذن کے لئے پیسے کی قلت کا رونا روتی ہے. آج ملک کے جو حالات ہیں اس کا ہم رونا تو روتے ہیں مگر وہ حالات کیسے بدلیں اس کی فکر نہیں ہے. ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ بھی اس قوم کے حالات کو نہیں بدلتا ہے جب تک اس قوم کو حالات بدلنے کی خود  فکر نہ ہو.


امیر شریعت اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے سہرسہ میں منعقد دو روزہ تربیتی اجلاس کے پہلے دن امارت شرعیہ کے نقباء ،نائب نقباء اور امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہرسہ میں امارت شرعیہ کے تعاون سے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اسکول قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زمین مہیا ہوتے ہی تعمیراتی کام شروع کر دئے جائیں گے فی الحال پورنیہ میں اسکول کا جلد افتتاح ہونے والا ہے جبکہ دربھنگہ میں زمین مہیا ہوگئ ہے اب وہاں جلد تعمیراتی کام شروع کردیا جائیگا. حضرت امیر شریعت نے لوگوں کو اردو کی اہمیت سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اردو کو زندہ رکھنا ہے اور پورے زندگی کے ساتھ زندہ رکھنا ہے کیونکہ اسلامی لٹریچر عربی اور فارسی کے بعد اردو میں ہے. یہودیوں نے اپنی زبان ہبرو کو 2200 سالوں تک اپنے گھروں میں زندہ رکھا اور پھر وہ سرکاری زبان اور اسکول کالج کی زبان بنی اور ہم صرف 70 – 75سال زندہ نہ رکھ سکے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے ساتھ ہی موبائل سے معاشرے میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں اس سے امیر شریعت نے متنبہ کیا. اس موقع پر حضرت مفتی ثناء الہدی قاسمی نے اس ماہ کی عظمت کے مدنظر لوگوں سے سیرت نبوی کا اول تا آخر مطالعہ کا وعدہ لیا تاکہ اس سیرت کے مطابق زندگی گذار نے کی کوشش کرسکیں. ساتھ ہی درود شریف پڑھنے کو معمول بنانے پر زور دیا. اس موقع پر حضرت امیر شریعت نے لوگوں کے سوالات، مطالبات کو نہ صرف بغور سنا اور خود نوٹ فرمایا بلکہ ایک ایک کا جواب بھی مرہمت فرمایا اور ان کے مطالبات پر ہمدردی اور مثبت ردعمل کا اظہار کیا. اپنی نوعیت کے اس پہلے پروگرام میں امارت شرعیہ کو گراس روٹ سے جوڑنے کی کوشش ہے جس کے لئے بلاک اور ضلع سطح پر بھی کمیٹی تشکیل دیکر عوامی بیداری لانے اور اجتماعی کاموں کی طرف ذہن مائل کرنے کی قابل ستائش قدم ہے جس کے لئے حضرت امیر شریعت کی کوشش لائقِ صد آفریں ہے.

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply