ملک شام سے روسی فوج کی واپسی کا مطلب

ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی

پچھلے ہفتہ روس نے ملک شام سی اپنی فوج کی واپسی کا اعلان کرکے پوری دنیا کو چونکا دیا۔ ایسی ہی حیرانی دنیا اور خاص کر امریکہ کو اس وقت ہوئی تھی، جب پچھلے سال ستمبر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے شام میں اپنی فوج بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ ملک شام میں پانچ سالوں سے خانہ جنگی کا عالم ہے، جس میں اب تک ۲۵ لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔ شامی صدر بشارالاسد پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کا استعمال کیا، یہاں تک کہ امریکہ اور اس کی حلیف جماعتوں کے ذریعہ تو اسد پر اپنے معصوم شہریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ شام کی حکومت مخالف طاقتیں بشارالاسد کو اقتدار سے برطرف کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور انہوں نے اسد حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہتھیار بھی اٹھا رکھے ہیں۔ ملک شام کی اس خانہ جنگی نے اس وقت سنگین صورت حال اختیار کر لی، جب داعش نے وہاں اپنے پیر جمانے شروع کر دیے۔ داعش کے دہشت گردوں نے وہاں پر بڑے پیمانے پر لوگوں کا خون بہایا، جس کو روکنے کے لیے امریکہ، فرانس اور جرمنی کی فوجوں نے شام پر بم برسانے شروع کر دیے۔

لیکن، اسی بیچ پچھلے سال ستمبر میں روس نے اچانک شام کے میدانِ جنگ میں کود کر ہوا کا رخ ہی بدل دیا۔ روس نے آخر شام میں اُس وقت مداخلت کیوں کی؟ اس کے جواب میں امریکہ اور اس کے حامی ملکوں کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کی روس سے دیرینہ دوستی ہے اور اسی دوستی کی پاسداری کرتے ہوئے روس نے شام میں مداخلت کی ہے۔ یہ بات کسی حد تک صحیح بھی ہے۔ حالانکہ دوسری طرف روس کا یہ دعویٰ تھا کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک ملک شام میں داعش کو ختم کرنے کے بہانے بشارالاسد کی فوج کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے تھے اور انھوں نے وہاں جتنے بھی بم برسائے ہیں، وہ داعش کے ٹھکانوں پر نہیں، بلکہ اسد کی فوج پر برسائے ہیں۔ روس نے میدانِ جنگ میں کودتے وقت یہ بھی کہا تھا کہ وہ شام میں صحیح معنوں میں داعش کو ختم کرنے کے لیے کودا ہے۔ لیکن ان دونوں دعووں کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ شام کے طرطوس بندرگاہ پر روسی بحریہ کا ایک بڑا مرکز واقع ہے۔ اسی جگہ سے روس نے دولت عثمانیہ کے خلاف لڑائی لڑی تھی اور اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی اپنے دشمنوں کا پرزور مقابلہ کیا تھا۔ اب ملک شام میں خانہ جنگی چھڑ جانے سے اس کے اس بحری اڈہ کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، جسے بچانے کے لیے روس ملک شام کی جنگ میں کودا۔

اب جب کہ روس نے وہاں سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے، تو سب سے بڑا سوال یہی اٹھتا ہے کہ ابھی شام سے تو داعش کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے، پھر روسی صدر نے یہ کیوں کہا کہ وہ اپنی فوج کو واپس اس لیے بلا رہے ہیں، کیوں کہ ان کا کام مکلمل ہو گیا ہے؟ اس کے جواب میں روس نے واضح طور پر تو کچھ نہیں کہا ہے، لیکن تجزیہ نگار یہی قیاس لگا رہے ہیں کہ روس کا مقصد اسد کی فوج کو طاقت بخشنا تھا، جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ ولادیمیر پوتن امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو بشارالاسد کے ساتھ امن کی میز پر لانا چاہتے تھے، لہٰذا اس محاذ پر بھی انھیں بڑی حد تک کامیابی ملی ہے۔ پہلے تو امریکہ اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں تھا کہ امن مذاکرات میں بشارالاسد کو شامل کیا جائے، لیکن روس کی مداخلت کے بعد براک اوبامہ کو یہ اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ ملک شام میں اقتدار کی منتقلی میں اگلا صدر بشارالاسد کو نہ بھی بنایا گیا، تو بھی انہیں حکومت میں کوئی نہ کوئی حصہ ضرور دیا جائے گا۔ ظاہر ہے، اس اعلان کو امریکہ کے لوگ جہاں ایک طرف اپنی شکست تسلیم کر رہے تھے، وہیں پوری دنیا اسے روس کی ایک بڑی کامیابی مان رہی ہے۔

لیکن، ان سب کے برخلاف میرا اپنا ذاتی طور پر یہ ماننا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ چند دہائیوں میں پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگی محاذ کھولے ہیں، اس میں اس کا بنیادی مقصد اپنے نئے ہتھیاروں کا تجربہ کرنا اور پھر دوسرے ممالک کو یہ ہتھیار بیچنا ہے، خاص کر ان ملکوں میں کسی نہ کسی شکل میں لڑائی یا خانہ جنگی کی شروعات کرکے۔ روس کو اِن برسوں میں اپنے نئے ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنے کا کوئی میدان نہیں ملا تھا۔ ملک شام میں اس کو پہلی بار ایسا موقع ملا، جہاں اس نے اپنے نئے کروز میزائلوں کا تجربہ کیا۔ اس نے ہزاروں میل دور روس کی سرزمین سے ایران اور ترکی کو پار کرتے ہوئے ملک شام میں داعش کے ٹھکانوں پر میزائل داغے اور دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو کامیابی کے ساتھ تباہ کیا۔ اپنے اس عمل سے روس نے امریکہ کے ساتھ ساتھ اپنے دیرینہ حریف فرانس، جرمنی اور برطانیہ کو یہ بتا دیا ہے کہ آئندہ جب کبھی بھی دنیا میں جنگ کا نیا محاذ کھلے، تو وہ روس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار رہیں، خاص کر ان علاقوں میں جہاں جنگ چھیڑنے سے روسی مفادات کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔

اس کے علاوہ روس نے ایک سال کے اندر ہی ملک شام سے اپنی فوج کو واپس بلاکر اس لحاظ سے بھی عقل مندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ جنگ میں زیادہ دنوں تک موجود رہنے سے ملک پر اقتصادیی نقطہ نظر سے بہت برا اثر پڑتا ہے، جس کا خمیازہ اس وقت امریکہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر امریکہ کو جنگ کی وجہ سے اقتصادی نقصان نہ پہنچ رہا ہوتا، تو اس کے لیے آج جنگ کا نیا میدان ایران ہوتا۔ لیکن، براک اوبامہ نے ایران کے ساتھ جنگ نہ کرکے اس کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا، تاکہ اپنی اقتصادیات کو پٹری پر لا سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سوویت یونین کے انتشار کے بعد روس اقتصادی طور پر پوری طرح ٹوٹ چکا تھا اور آج بھی اس کی اقتصادی حالت اتنی بہتر نہیں ہے کہ وہ کسی بھی جنگی میدان میں زیادہ دنوں تک ٹک سکے۔ لہٰذا پوتن نے ملک شام میں چھ مہینے ٹک کر دنیا کو اپنی فوجی طاقت کا احساس بھی کرا دیا اور خود کو زیادہ اقتصادی نقصان ہونے سے بھی بچا لیا۔

لیکن ملک شام میں امن و امان کی حالت اب بھی بہت خراب ہے۔ بھلے ہی گزشتہ ۲۷ فروری کو جنگ بندی کے اعلان سے وہاں لوگوں کو طبی و دیگر امداد پہنچنی شروع ہو گئی ہیں، لیکن لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ دوسرے ممالک میں ہجرت کر چکے ہیں، ان کی وطن واپسی کے لیے ملک میں امن و امان کا پوری طرح بحال ہونا نہایت ضروری ہے۔ اچھی بات ہے کہ جنیوا میں ملک شام کو لے کر امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے اس بات کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک شام میں جلد از جلد اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع ہو، تاکہ وہاں سیاسی استحکام آئے اور لوگوں کو پرامن طریقے سے جینے کا بنیادی حق مل سکے۔ لیکن داعش کا ابھی ملک شام سے پوری طرح خاتمہ نہیں ہوا ہے اور آج بلجیم کی راجدھانی برسیلز میں ہونے والے بم دھماکے سے یہ بات ثابت ہوتی جا رہی ہے کہ داعش کا خطرہ لگاتار بنا ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی سے متحد ہو اور انسانیت کے تحفظ و بقا کے لیے سب مل کر کام کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *