انور سدید کے انتقال پر اردو کونسل میں تعزیتی نشست

 

انور سدید
انور سدید

نئی دہلی، ۲۱؍ مارچ (پریس ریلیز): اردو کے ممتاز ناقد اور صحافی انور سدید کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ممبئی سے ٹیلی فون پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے اردو دنیا ایک قاموسی شخصیت سے محروم ہوگئی۔ انور سدید نے اردوتحریکات، رجحانات اور اصناف کے حوالے سے جو دستاویزی نوعیت کا کام کیا ہے، اس سے اردو کے علمی اور ادبی سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے انور سدید کی متنوع شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو میں ایسی وسیع المطالعہ شخصیتیں بہت کم ہیں جن کا دنیا بھر کی کتابوں اور رسائل سے گہرا رشتہ رہا ہو۔
انور سدیدکا امتیاز یہ ہے کہ وہ پوری ادبی دنیا کے احوال سے مکمل طور پر باخبر رہتے تھے، لکھنا پڑھنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ باوجودیکہ وہ پاکستان کے محکمۂ آبپاشی سے بحیثیت ایکزیکیوٹیو انجینئر وابستہ رہے تھے مگر انہوں نے اردو ادبیات سے اپنا رشتہ آخری وقت تک قائم رکھا۔ ’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘ ،’اردو ادب میں سفرنامہ‘، ’اردو ادب کی تحریکیں‘ ان کی اہم حوالہ جاتی کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے حوالے سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انور سدید مختلف رسائل و جرائد میں بھی کالم لکھا کرتے تھے جو عوام و خواص میں بے حد مقبول تھے۔
قومی اردو کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال نے انور سدید کی رحلت کو اردو ادب کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسمانِ ادب کے ستارے ٹوٹتے جارہے ہیں۔ ابھی ہم انتظار حسین، ندا فاضلی، زبیر رضوی کے غم سے نکل بھی نہیں پائے تھے کہ انورسدید جیسے سرکردہ نقاد اور کالم نگار کے انتقال کی اندوہناک خبر ملی۔ انہوں نے کہا کہ انور سدید کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کے تنقیدی کارنامے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
قومی اردو کونسل کی اس تعزیتی میٹنگ میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسرشاہنواز خرم، ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی اور ڈاکٹر توقیر راہی کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

(تصویر بشکریہ ’اب تک ٹی وی ‘)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *