قومی اردوکونسل نے اسلامک اسٹڈیز کی جگہ بنایا مذہب وثقافت پینل

نئی دہلی(پریس ریلیز): اسلامک اسٹڈیز پینل کی ازسر نو تشکیل کا مقصد اس کے دائرے کو مزید وسعت دینا ہے تاکہ مذہب اورثقافت کے پیش نظر کونسل ایسی کتابیں شائع کرسکے جن سے ہندوستان سمیت پوری دنیا میں قومی یکجہتی، تہذیبی ہم آہنگی، بھائی چارگی اور رواداری کی فضا قائم کرنے میں مدد مل سکے۔اس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے۔ اسلامک اسٹڈیز پینل کی تشکیل ۲۰۱۳ میں کی گئی تھی اب اسے مذہب اور ثقافت پینل کردیا گیا ہے۔ یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے صدر دفتر میں منعقدہ مذہب اور ثقافت پینل کی میٹنگ میں ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
DSC_0406
پروفیسرارتضیٰ کریم نے مزید کہا کہ بین مذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی لیے کونسل تمام مذاہب کی ایسی کتابوں کے ترجمے پر ترجیحی طور سے دھیان دے گی جو ملک میں سازگار فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس چھوٹی مگر اہم میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر کونسل کے وائس چیئرمین پدم شری مظفر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد فروغ اردو ہے، فروغ مذہب نہیں۔ ہمیں اسی سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پینل کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔ انہوں نے تمام ممبران سے مذہب اور کلچر کے تعلق سے مثبت مشورے و تجاویز دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پینل کے تحت دوسرے مذاہب اور کلچر کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ ہندوستانی تہذیب کو انہوں نے ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے متنوع رنگ اور خوشبو ملک کی یکجہتی کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے ترجمے کی بابت کہا کہ زبان و ادب میں حرف آخر کچھ نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کے سیکڑوں تراجم موجود ہیں اس کے باوجود لوگوں کی تشنگی اب بھی باقی ہے۔
اس موقع پر معروف سماجی کارکن سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مذہب، کلچر کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اسے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ آج ہم ایسے پرآشوب دور سے گذر رہے ہیں، جہاں مذہب کی بنیاد پر منافرت پھیلائی جارہی ہے اور غیرمذہبی باتوں کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ ہمیں رواداری اور بھائی چارگی کے توسط سے ملک میں خوش گوار ماحول قائم کرنا ہوگا۔ کونسل ایسی کتابوں کی اشاعت پر غور کرے جو تعمیری پہلو لیے ہوئے ہو ۔ مجھے اس طرح کی میٹنگ میں آنے کا پہلی بار موقع ملا ہے اور آپسی گفت و شنید سے جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ کافی مثبت اور دلچسپ ہیں۔ ممبران نے اس میٹنگ میں اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بنارس، اورنگ آباد اور لکھنؤ وغیرہ جیسے ملک کے ایسے شہروں اور علاقوں کے انتخاب کی ضرورت ہے جن کی اپنی ایک تہذیب ہو۔اسی کے ساتھ کونسل سے نادر و نایاب کتابوں کو دوبارہ شائع کرنے کے لیے بھی تجویز پیش کی گئی ۔ اس موقع پر مولانا صہیب قاسمی نے خصوصی طور سے دو کتابوں وطن پرستوں کی کہانیاں اور صوفی ازم کی اشاعت کی طرف پینل کو توجہ دلائی۔
میٹنگ میں پروفیسر ناشر نقوی، پروفیسر غلام یحییٰ انجم، ڈاکٹر زینت شوکت علی، ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی، مولانا صہیب قاسمی کے علاوہ کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر(اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر جناب فیروز عالم،ٹیکنیکل اسسٹنٹ محترمہ آبگینہ عارف، ڈاکٹر شاہد اختر انصاری اور محمد طاہر نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *