اردو عوام کی زبان ہے: ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ

(عالمی اردو سمینار سے خطاب کرتی ہوئیں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ)

نئی دہلی: قومی اردو کونسل کے زیراہتمام اردو صحافت کے دو سو سال پر منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ زبان کو کسی بھی مذہب کے ساتھ جوڑنا زبان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ اردو کی اب کاروباری حیثیت نہیں رہی۔ اردو اخبارات کے پاس صنعتی گھرانے بھی نہیں ہیں اسی لیے اس کی بقا کا مسئلہ بڑا اہم ہے۔
محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے قلم اور زبان کی آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ایسا انٹرنل میکانزم تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہمیں اندازہ ہو کہ ہم صحیح یا غلط راستے پر جارہے ہیں۔ ایک غلط خبر بہت سے لوگوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس لیے اخبار والوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ خبر دیتے وقت وہ اس بات کا ضرور خیال رکھیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں اردو زبان کے مسائل و مشکلات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ بڑی عجیب بات لگتی ہے کہ کسی زبان کو اپنی بقا کے لیے جنگ لڑنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اردو آج اس لیے زندہ ہے کہ وہ عوام کی زبان ہے۔ وہ عوام سے قلعۂ معلی تک گئی تھی۔ جتنی وسعت اس زبان میں ہے کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اردو زبان میں بڑی طاقت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کو مولانا نے نیا موڑ دیا اور ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کے ذریعے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی جو اس وقت مسلمانوں پر طاری تھا۔

(ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کے ساتھ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم ، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی و دیگر شرکاء)

اس موقع پر تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ زرد صحافت سے اردو کو بچنا اور بچانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو والوں میں بڑی صلاحیت ہے مگر وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال تخریبی کاموں میں کررہے ہیں۔ ہم مثبت انداز میں اردو کے فروغ کے لیے کام کریں تو ہمیں اپنے خوابوں کی منزل ضرور مل جائے گی۔ انہوں نے دہلی کی مسلم اکثریتی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں لاکھوں اردو والے موجود ہیں وہاں اردو کے سو یا پچاس اخبارات بھی نہیں بکتے، یہ افسوسناک صورت حال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بھی اردو کا اتنا بڑا کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے جس کا بجٹ ۸۰؍ کروڑ روپے کا ہو، یہ صرف قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ہے جو پوری دنیا کا سب سے بڑا اردو ادارہ کہلا سکتا ہے۔
پہلے سیشن میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مقالہ نگاروں نے اردو صحافت کے حوالے سے پرمغز مقالے پڑھے ۔انہوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے امکانات کے تعلق سے معنی خیز گفتگو کی۔ جاوید دانش نے شمالی امریکہ سے شائع ہونے والے ’غدر‘ اخبار کے حوالے سے اپنا مقالہ پڑھا جس کے ایڈیٹر ہردیال تھے۔ اس اخبار نے تارکین وطن کے جذبۂ حب الوطنی کو بیدار کرنے میں بہت اہم رول ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایک مہاجر زبان ہے جب تک مہاجرت کا سلسلہ جاری ہے اردو نہیں مر سکتی۔ انقلاب کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے ’اردو صحافت کے امکانات‘ کے حوالے سے اپنا مقالہ پڑھا جس میں انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی طلسم ہوش ربا نے اردو اخبارات کو وہی صورتیں مہیا کی ہیں جو دوسری زبانوں کے اخبارات کو حاصل ہیں۔ اب اردو اخبارات کی صورت حال پہلے کے مقابلے میں بہت بدل گئی ہے۔انٹر نیٹ ایڈیشن اور ای اخبار کے ذریعے اب اردوصحافت کے لیے ہفت خواں کا سفر آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے اردو اخبارات میں زبان کی صحت اور معیار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ فرانس کے ڈاکٹر ایلن نے مولانا ابوالکلام آزاد کے ’الہلال‘ کے حوالے سے مضمون پڑھا جبکہ ٹائمز آف انڈیا کے سینئر جرنلسٹ وجیہ الدین نے انگریزی میں ’آج کی اردو صحافت کی صورتِ حال اور امکانات‘ کا جائزہ پیش کیا۔ امریکہ کے ممتاز ناقد احمد سہیل نے اردو کے دو عہد ساز ادبی جرائد ’ادبِ لطیف‘ اور ’شاعر‘ کے تعلق سے اپنا معلوماتی مضمون پیش کیا۔ ان دونوں رسائل کی مجموعی ادبی خدمات کاانہوں نے تفصیلی جائزہ لیا۔ ممتاز نقاد پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے ’ادبی رسائل کی صورت حال‘ پر گفتگو کی اور اپنے مقالے میں خاص طور پر یہ واضح کیا کہ اب ادبی صحافت بے چہرہ ہوکر رہ گئی ہے۔ اداریے اور تبصرے بھی رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان رسالوں کی کوئی ادبی اور لسانی پالیسی بھی نہیں ہے۔ روزنامہ’ خبریں‘ کے جوائنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر زین شمسی نے ’اردو صحافت بے انتہا مسائل بے شمار امکانات‘ کے حوالے سے چشم کشا مضمون پڑھا۔ انہوں نے اردو صحافت کی موجودہ رفتار اور مسائل و مشکلات کے حوالے سے بہت ہی بے باکی کے ساتھ گفتگو کی۔ ان کے مضمون کو حاضرین نے بہت سراہا۔ اس کے علاوہ بحرین کے شکیل احمد صبرحدی نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا۔
مقالہ خوانی کے اس سیشن کی مجلس صدارت میں ضامن جعفری، شاہد صدیقی، سید فیصل علی اور شفیع مشہدی شامل تھے، جبکہ نظامت کے فرائض تسنیم کوثر نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
width="660" (اجلاس میں شرکت کررہے سامعین کا ایک منظر)

دوسرے سیشن کا آغاز ظفرانور شکرپوری کے مقالے سے ہوا جنہوں نے ’اردو صحافت کی تاریخ اور ارتقا ء‘پر پرمغز گفتگو کی۔ ان کے بعد بنگلہ دیش سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد غلام ربانی نے ’بنگلہ دیش کی اردو صحافت‘ پر روشنی ڈالی۔ لاہور کی ڈاکٹر صائمہ ارم نے صحافت کے تعلق سے کچھ اہم سوالات اٹھائے اور صحافت کے معذرت خواہانہ انداز پر تنقید کی۔ پروفیسر شافع قدوائی نے ’نیا ترسیلی بیانیہ اور اردو صحافت‘ کے حوالے سے اپنی بات کی جبکہ قطر سے تشریف لائے عزیز نبیل نے ’اردو کی ادبی صحافت کے تدریجی ارتقا کا جائزہ‘ پیش کیا۔ معروف قانون داں خواجہ عبدالمنتقم، ماریشس سے ڈاکٹر آصف علی عادل اور سہیل انجم نے بھی اردو صحافت کے حوالے سے اپنے گراں قدر مقالے پیش کیے۔
اس سیشن کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پیغام آفاقی، فوزیہ چودھری، جاوید دانش اور رؤف خان نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر قمر تبریز نے انجام دیے۔
عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن شام میں ایک شاندار عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرون ملک کے شعرائے کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *