یوم جمہوریہ اور ہندوستانی بچے

نکہت پروینNikhat Parween

اڑسٹھواں یوم جمہوریہ آج پورا ملک جوش وخروش سے منا رہا ہے، وجہ یہ ہے کہ آج ہی کے دن ہمیں جمہوری ملک کا آئین ملا تھا، جس میں بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ہم ہندوستانیوں پر کچھ فرائض بھی عائد کئے گئے ہیں۔ جس کا جشن ہم سب ہندوستانی مناتے ہیں اور منانا بھی ضروری ہے کیونکہ کسی نعمت کے حصول کا ذکر کرنا اور خوشی منانا ہم سب کا حق ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یوم جمہوریہ کی یہ رونق پھیکی پڑ جائے، اگر ہمارے بچے یوم جمہوریہ کے استقبال کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں تیاری کرنا چھوڑ دیں۔ جنوری کے آغاز سے ہی تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ بچوں کو یوم جمہوریہ کے استقبال میں لگا دیتے ہیں۔ بچے بھی خوشی خوشی ڈرامہ، قومی ترانہ، شاعری، مباحثہ،مناظرہ،مقالمہ اور تقریری پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں تاکہ یومِ جمہوریہ کی تقریب والے دن مہمانوں کے سامنے اپنی بہترین کارکردگی سے ان کا دل جیت سکیں۔

   اس بارے میں بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے ہولی وژن اسکول میں 7 ویں جماعت کی طالبہ شبنم کہتی ہے کہ ـ” بہت اچھا لگتا ہے جب ہر سال 26 جنوری کے پروگرام میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے چھواچھات کو ختم کرنے کے لئے دوستوںکے ساتھ مل کر ایک ڈرامہ کیا تھا، جس کو تمام ناظرین نے بہت پسند کیا تھا اس مرتبہ لڑکیوں کی تعلیم پر ایک ڈرامہ کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں ،میں بھی حصہ لے رہی ہوں”۔ چھٹی جماعت کے طالب علم شاہد پُرجوش انداز میں کہتے ہیں کہ ” 15 اگست اور 26 جنوری کے موقع پر جس طرح اساتذہ کرام ملک کی آزادی اور جمہوریت کی خوبصورتی کے تعلق بہادر جوانوں کے بارے میں بتاتے ہیں، تو ہمیں بھی جوش آجاتا ہے ، علاوہ ازیں ہم پروگرام کے لئے تیاری کرتے ہیں اس سے ہم بچوں کو اچھی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں جن بہادر سپاہیوںکی بہادری بھری کہانیوں کو پورے سال پڑھتے ہیں اسٹیج پر ان کی نقل کرنے میں فخر کے ساتھ بہت مزہ آتا ہے”۔
    پانچویں جماعت میں پڑھنے والی پریتی کہتی ہے کہ ” 26 جنوری کے دن ماں صبح صبح  نہلا کر، دو چوٹی بناتی ہیں۔ چوٹیوں میں قومی پرچم  ترنگے والے رنگ کے ریبن لگانا سب سے اچھا لگتا ہے۔ اس سال پہلی بار دوستوں کے ساتھ قومی ترانہ میں حصہ لے رہی ہوں، میری ٹیچر نے مجھے بتایا کہ ہمارا ملک کتنا اچھا ہے اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر جسے ماہرین نے بڑی عرق ریزی کے بعد ملک کا آئین بنایا تھا، تاکہ ہم سب ایک ساتھ مل جل کر رہیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں”۔
   پٹنہ یونیورسٹی میں صحافت کے طالب علم پنکج کے مطابق” اسکول کے وقت سے ہی 26 جنوری کے پروگراموں میں حصہ لیتا آیا ہوں۔ جس کی وجہ سے مجھ میں ملک کے لئے کچھ کرنے کی خواہش نے انگڑائی لی اور میںنے صحافت میں داخلہ لینا ہی مناسب سمجھا تاکہ معاشرے سمیت ملک کے مفاد میں کچھ اچھا کام کر سکوںـ”۔
      کچھ اساتذ اپنے تجربات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ” دراصل جمہوریت کی اصلی رونق بچوں سے ہی ہے،یوم جمہوریہ کے لئے بچوں کا جوش ہر سال دیکھتے ہی بنتا ہے، آج ملک میں جس طرح کا ماحول بنتا جا رہا ہے صرف یہ بچے ہی ہیں جو ملک کو بچا سکتے ہیں۔ اس لئے ہم کوشش کرتے ہیں کہ پروگراموں کے بہانے بچوں کو ملک کی اصل روح سے منسلک کریں،تاکہ جب یہ بچے اسکول سے باہر کی دنیا میں جائیںتو اپنے مفاد کے ساتھ معاشرے کا بھی خیال رکھیں”۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے ملک کا مستقبل ہیں ، اگر کل ہم اپنے ملک کو محفوظ اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو آج ان بچوں کے والدین ، اساتذہ اور بڑے بھائی بہن ہونے کے ناطے ویسی پرورش کرنی ہوگی تاکہ آج کے بچے کل اپنے پیارے وطن کا مستقبل روشن کرنے میں بخوبی اپنی حصہ داری ادا کرسکیں۔ اور آج جو بچے شاعر مشرق کی تخلیق کو محض دعا سمجھ کر اپنی تعلیم کی ابتداء کرتے ہیں وہ بڑے ہوکر عملی طور پر کہہ سکیں کہ  ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا ،، درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *