کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام اردو ناول پر سیمینار کا انعقاد

ناول اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے: علی احمد فاطمی
کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں اردو ناول پر سمینار کا انعقاد
بزرگ شاعر پروفیسر طلحہ رضوی برق کو ایوارڈ سے نوازا گیا
(پٹنہ21 فروری(پریس ریلیز
ناول اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے، ناول کی سطروں میں معاشرہ، عہد اور نفسیات و جذبات چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، ایک اچھے اور آفاقی ناول کی پہچان یہی ہے کہ اس میں اس عہد اور معاشرے کی تصویر کتنی صاف نظر آرہی ہے، ان خیالات کا اظہار شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے کلیدی خطاب میں کیا- انہوں نے کہا ہے جدیدیت کے مقابلے ترقی پسند تحریک کے دور میں کامیاب ناول لکھے گئے ، اس کے بعد ڈیڑھ دو دہائی تک اردو دنیا میں کوئی قابل ذکر ناول نگار ابھر کر سامنے نہیں آیا، اس کے بعد بیسوی صدی کے اواخر سے جو ناول نگاری کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ اتنی ہے کہ اکیسوی صدی کو ناول کی صدی کہہ سکتے ہیں- واضح رہے کہ شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی یوم مادری زبان کے موقع پر کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام اردو اکادمی کے تعاون سے دو روزہ قومی سیمینار و مشاعرہ بعنوان اکیسوی صدی میں اردو ناول سمت و رفتار کا بدھ کے روز سابق وزیر اقلیتی فلاح حکومت بہار نوشاد عالم کے ہاتھوں افتتاح ہوا، جس کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد کر رہے تھے، موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر زرنگار یاسمین نے کہا کہ چند اہم ناول نگاروں کو الگ رکھیں تو عام طور پر ہمارے ناولوں کی زبان غیر معیاری نہ سہی غیر تخلیقی ہوتی جارہی ہے، آخر ایسا کیوں ہورہا ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے- پروگرام کی نظامت کررہے ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے کہا کہ یہ صدی ناول کی صدی ہے، اکیسوی صدی نے ابھی دو دہائی بھی مکمل نہیں کی ہے لیکن اب تک 60 قابل ذکر ناول تخلیق ہوچکے ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی یوم مادری زبان کے تعلق سے مادری بان اردو سے محبت کی تلقین بھی کی اور کہا کہ زبان سے محبت ہوگی تب ہی ادب پڑھا جائے گا اور نئی صدی میں ناول جیسی تمام اصناف ترقی کریں گی۔مہمان خصوصی ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ پروفیسر عبد الصمد صاحب نے کہا کہ اس عہد میں فنکار تو بہت ہیں، تخلیقی فن پارے بھی بہت زیادہ منصہ شہود پر آرہے ہیں لیکن ہمارے ناقدوں کی نگاہیں ان پر نہیں پڑتیں، تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ ناقدوں کو بھی احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔وہیں کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر اسرائیل رضا نے مختصر مدت میں ٹرسٹ کی حصولیابیوں کی تعریف کی اور مستقبل کے عزائم کا اظہار کیا- اس موقع پر پروفیسر طلحہ رضوی برق صاحب کو کیف عظیم آبادی ایواڈ 2017 سے نوازا گیا-مہمان اعزازی کی حیثیت سے امتیاز احمد کریمی اور پروفیسر عبد الصمد نے بھی اردو زبان اور ناول کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔افتتاحی اجلاس سے قبل صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر جاوید حیات نے تمام مہمانان گرامی اور شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کو سمینار اور مشاعرہ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی ۔افتتاحی اجلاس کے اختتام پر کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کی طرف سے بزرگ اور صدارتی اعزاز یافتہ شاعر و ادیب پروفیسر سید طلحہ رضوی برق کو ’’کیف عظیم آبادی‘‘ ایوراڈ سے نوازا گیا۔افتتاحی اجلاس کے بعد دو نشستیں ہوئیں- پہلی نشست کی صدارت مشتاق احمد نوری اور ڈاکٹر ندیم احمد نے مشترکہ طور پر کی، نظامت کا فریضہ کامران غنی صبا نے انجام دیا۔ جبکہ دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی اور خورشید حیات نے کی اور نظامت کا فریضہ نورالسلام ندوی نے انجام دیا- دونوں نشستوں کے مقالہ نگاروں میں پروفیسرندیم احمد،آفتاب احمد آفاقی،حامدعلی خاں، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، فخر الدین عارفی، محمد منہاج الدین، صفدر امام قادری، فرحت ناز رضوی، افشاں بانووغیرہ شامل تھے-پروگرام میں شہر کی اردو آبادی کے علاوہ ریسرچ اسکالر اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔آخر میں ٹرسٹ کے ڈائریکٹر محمد آصف نواز نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔کل صبح دس بجے ڈاکٹر ریحان غنی مادری زبان کی اہمیت پہ خطبہ پیش کریں گے اور معروف شعرا اپنے کلام سے نوازیں گے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *