اردو مر رہی ہے اور اردو والے لڑ رہے ہیں

ابھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم کب تک اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچتے رہیں گے؟ لوگ جب اردو پڑھنا لکھنا جانیں” گے، تبھی تو وہ میر و غالب کو پڑھ سکیں گے، تبھی تو وہ اردو کی کتابیں خریدیں گے۔ لیکن آپ لوگ اردو کے چاہنے والوں کو اردو سکھانے کا کام نہیں کر رہے ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں اور گروہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں۔

Save Urdu

ڈاکٹر قمر تبریز

عجیب المیہ ہے۔ جس اردو زبان نے ابتدا سے لے کر اب تک لاتعداد لوگوں کو دولت و شہرت عطا کی، آج اسی اردو کے نام لیوا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ اردو کی خشک ہوتی جڑوں میں پانی ڈال کر اسے ترو تازہ کیسے کیا جائے۔ سب اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں۔کجریوال حکومت کی طرف سے لال قلعہ کا مشاعرہ کرانے میں دیر ہوئی، تو لوگوں نے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا کہ اِس ملک میں ۱۸۵۷ کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب لال قلعہ کے مشاعرہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ کجریوال کو بھی انگریزوں کی طرح ہی اردو مخالف بتایا جانے لگا۔ حالانکہ فورٹ ولیم کالج کھول کر انگریزوں نے اردو کو فروغ دیا تھا، بھلے ہی اس کا مقصد کچھ اور رہا ہو۔ اب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروِند کجریوال بھی اردو والوں کے دباؤ میں آکر ۱۶ فروری کو دہلی اردو اکادمی کے توسط سے لال قلعہ کا مشاعرہ کروانے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اردو اکادمی کے چیئرمین اور عالمی شہرت یافتہ شاعر ماجد دیوبندی دہلی کے ختم ہوتے جا رہے اردو میڈیم اسکولوں میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کرانے میں اور اس سلسلے میں کجریوال پر اپنا کوئی اثر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

دوسری طرف انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری اطہر فاروقی ہیں، جو نوجوان ہیں، فعال ہیں اور اردو کے مستقبل کو لے کر مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ جس طرح آر ایس ایس کے حکم پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ۷۰ سال سے زیادہ کی عمر والے لیڈروں کو کنارے لگا دیا ہے، اسی طرح اطہر فاروقی نے بھی ایک تحریک چلائی کہ اردو اداروں کی سربراہی اب نوجوانوں کے ہاتھ آنی چاہیے۔ اسی لیے میں بھی ان کا قائل ہوا اور اپنے چند مضامین کے ذریعہ انجمن ترقی اردو ہند کی بعض کمزوریوں کی جانب اہل اردو و حکومت وقت کی توجہ مبذول کرائی۔ لیکن اردو کے تحفظ اور پھر اس کی بقا کو لے کر جن فکرمندیوں کا اظہار میں نے اپنے اُن مضامین میں کیا تھا، اس کا ازالہ اطہر فاروقی صاحب بھی نہیں کر پائے ہیں۔ ماجد دیوبندی تو بعد میں اردو اکادمی کے چیئرمین بنے، اطہر فاروقی پہلے سے ہی انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ہیں۔ لیکن انھوں نے بھی دہلی میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کرانے میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا کوئی استعمال نہیں کیا اور اگر کیا بھی ہوگا، تو اس میں اب تک وہ ناکام رہے ہیں۔ حالانکہ اطہر فاروقی جس تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں، اس کا دائرہ صرف دہلی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دائرہ ملک گیر ہے۔

اب آئیے، تیسرے ادارے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ہے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران میں نے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم سے سوال کیا کہ اِس وقت سارے لوگ یہی رونا رو رہے ہیں کہ اردو کے میلے تو لگتے ہیں، لیکن اردو کی کتابیں بکتی نہیں۔ میرے خیال سے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کو اردو پڑھانے کا انتظام نہیں کیا گیا ہے اور اردو میڈیم اسکولوں میں اردو کے اساتذہ کی تقرری نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اس سلسلے میں آپ کیا کر رہے ہیں؟ ارتضیٰ صاحب نے اُس وقت تو اس سوال کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ این سی پی یو ایل کو اردو کے اساتذہ کی تقرری کرانے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ البتہ بعد میں ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں اردو کونسل کی طرف سے اُن تمام لوگوں کو اردو سکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو اردو کے چاہنے والے ہیں اور اسے سیکھنا چاہتے ہیں۔ تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس کی شروعات دہلی سے کریں گے اور تمام علاقوں میں آٹو پر مائک کے ذریعے یہ اعلان کرائیں گے کہ جو بھی اردو سیکھنا چاہے، وہ اس آٹو کے پاس چلا آئے، کونسل کی طرف سے اس آٹو میں اردو سکھانے والے موجود ہیں، جو روزانہ ان کے علاقے میں آئیں گے اور انھیں اردو سکھائیں گے۔ جب یہ لوگ اردو سیکھ لیں گے، تو کونسل کی طرف سے انھیں سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ لیکن ارتضیٰ صاحب نے اب تک اپنی اس سوچ کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔

ابھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ’’ہم کب تک اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچتے رہیں گے؟‘‘لوگ جب اردو پڑھنا لکھنا جانیں گے، تبھی تو وہ میر و غالب کو پڑھ سکیں گے، تبھی تو وہ اردو کی کتابیں خریدیں گے۔ لیکن آپ لوگ اردو کے چاہنے والوں کو اردو سکھانے کا کام نہیں کر رہے ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں اور گروہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں ہم نے ’انیسیے‘ اور ’دبیریے‘ کے بارے میں تو پڑھا ہے، لیکن آج اپنی آنکھوں سے ’نارنگیے‘ اور ’فاروقیے‘ کو دیکھ رہے ہیں۔ پروفیسر ابن کنول اور پروفیسر ارتضیٰ کریم کے درمیان ہونے والی اس بحث کے بارے میں بھی سنا ہے کہ زیادہ اچھی اردو کون جانتا ہے، ’یوپی والا‘ یا ’بہاری‘۔ ہمارے پروفیسران کے درمیان اگر یہی سب چلتا رہا، تو پھر آج سے ہی ہم تمام اردو والوں کو اپنی مادری زبان کی مرثیہ خوانی کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔

اب آئیے بات کرتے ہیں، عالمی اردو کانفرنس کی۔ گزشتہ ۵ سے ۷ فروری، ۲۰۱۶ کے دوران قومی کونسل برائےفروغِ اردو زبان نے دہلی یونیورسٹی کے کانفرنس سنٹر میں عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اردو کونسل کا ڈائرکٹر بنتے ہی پروفیسر ارتضیٰ کریم نے سب سے زیادہ توجہ صحافت اور خاص کر اردو صحافت سے وابستہ لوگوں کو دی ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعض صحافی انھیں مخالف خیمہ کا سمجھ کر ان کی پریس کانفرنس یا میٹنگوں سے خود کو دور ہی رکھتے ہیں۔ ایسا میں نے محسوس کیا ہے۔ اردو صحافت کی ۲۰۰ سالہ تاریخ کا جشن منانے کے لیے ارتضیٰ کریم پوری طرح کمربستہ ہیں اور ان کے عزائم کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ کوئی انھیں ان کے ارادے سے ڈگمگانے میں کامیاب ہو پائے گا۔ عالمی اردو کانفرنس کے تعلق سے بعض اخباروں نے بعض کمیوں و کوتاہیوں  کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی، جسے انھوں نے یہ کہتے ہوئے بخوشی تسلیم بھی کیا کہ ’’اس سے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے‘‘۔ لیکن اسے خوامخواہ طول دینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عالمی اردو کانفرنس کے اسٹیج سے ہی مشہور ماہر تعلیم پی اے انعامدار نے کہا تھا کہ ’’میں مہاراشٹر بھر میں ۴۰ تعلیمی ادارے چلا رہا ہوں، جہاں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد علم حاصل کرکے باہر نکل رہی ہے، لیکن عدالتوں میں میرے خلاف ۲۵۰ مقدمے بھی چلے یا چل رہے ہیں اور یہ سارے مقدمے ہمارے ہی مذہب کے لوگوں نے میرے خلاف کر رکھے ہیں۔‘‘ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ جب بھی کوئی تعمیری کام کرتے ہیں، تو بے شمار لوگ آپ کی ٹانگ کھینچنے لگتے ہیں، لیکن اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حالی یا شبلی میں سے کسی نے سرسید احمد خاں کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ہم باتیں کرتے تھے، سید کام کرتا تھا‘‘۔

دوسری طرف معروف صحافی اور راجیہ سبھا کے موجودہ رکن پارلیمنٹ ایم جے اکبر نے بھی اسی اسٹیج سے ہمارے ضمیر کو للکارا تھا اور کہا تھا کہ ’’اردو کے صحافی پہلے باضمیر ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کا ضمیر کچھ کمزور ہونے لگا ہے۔‘‘ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود سے بھی یہ سوال کرنا چاہیے کہ بطور صحافی کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں؟ جاننے والے جانتے ہیں، بلکہ اب تو ہندوستان کے عوام بھی کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ ’’میڈیا بکا ہوا ہے‘‘۔ ہمیں اپنے اوپر لگ چکے اِس بدنما داغ کو دھونا ہے، ورنہ کون نہیں جانتا کہ آج کے دور کے اردو صحافی اندرونِ خانہ کیا کرتے ہیں۔ اگر ایک ایک کا نام لے کر ان کے اعمال گنوائے جائیں، تو کئی صفحات رنگین ہو سکتے ہیں۔ لیکن، اس سے قطع نظر کرتے ہوئے، ہمیں متحد ہو کر اردو کی بقا اور اس کے تحفظ کے لیے لڑائی لڑنی ہے۔ ایک دوسرے پر اگر ہم کیچڑ اچھالیں گے، تو نہ تو اردو صحافت کا وجود باقی رہے گا اور نہ ہی ہماری پیاری زبان اردو۔ آج سے ’جشن ریختہ‘ کے نام سے اردو کی محفل سجی ہے، جائیے اس کے مزے لیجئے اور آپسی کدورتوں کو مٹا کر آگے کی سوچئے۔ اردو زندہ رہی، تو ہم سب زندہ رہیں گے، ورنہ ’’تیری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘۔

Drama “Main Urdu Hoon

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *