اگر اردو نہیں پڑھائیں گے تو بچے بےراہ روی کے شکار ہو جائیں گے.. ڈاکٹر تقی الدین احمد

سہرسہ… وجیہ احمد تصور ✍️
    دین کو ہم نے اردو کے ذریعہ سمجھا مگر افسوس ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے انگریزی میڈیم اسکول میں داخل کراتے ہیں جہاں اردو کی بالکل پڑھائی نہیں ہوتی اور بچے اردو سے نابلد رہ جاتے ہیں اور ان کے اندر دینی شعور پیدا نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے آگے چل کر اس بچہ کو نہ تو والدین کے حقوق کا پتہ ہوتا ہے اور نہ اپنے فرائض کا اور پھر بعد میں اس بات کا رونا روتے ہیں کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے ہیں.
   درج بالا خیالات کا اظہار سہرسہ کے ضلع ایجوکیشن افسر کم انچارج آر ڈی ڈی ڈاکٹر محمد تقی الدین احمد نے کلا بھون میں منعقد فروغ اردو سیمینار اور مشاعرہ کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا. انہوں نے کہا کہ کسی میڈیم میں پڑھایئے مگر ساتھ میں اردو بھی ضرور پڑھایئے اگر اردو نہیں پڑھائیں گے تو وہ دینی تعلیم سے آراستہ نہیں ہونگے اور وہ بے راہ روی کے شکار ہوجائیں گے. ڈاکٹر تقی الدین احمد نے کہا کہ وہ ضلع کے اسکول وائز یہ ڈاٹا تیار کروا رہے ہیں کہ کتنے اردو بچے اور کتنے اساتذہ ہیں تا کہ اگلے شیشن میں اسکول کو چست درست کر سکیں. انہوں نے کہا کہ وہ اردو اساتذہ کی ایک میٹنگ بلا کر ان کو اردو میں پڑھانے کے طور طریقوں سے آگاہ کرایا جائے گا.
اس موقع پر راجد کے سابق ضلع صدر پروفیسر محمد طاہر نے بہت سارے اسکول کی نشاندہی کی جس میں اردو بچے تو ہیں مگر اساتذہ نہیں ہیں ایسے میں اردو کا فروغ کیسے ہو سکتا ہے. اس موقع پر اپنے خطاب میں سی پی آئی کے رہنما اور ضلع پارشد اوم پرکاش نارائن نے کہا کہ اردو وہ زبان ہے جس نے آزادی کی تحریک میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا اور مشہور نعرے اور وطن پرستی نغمے اسی زبان کی دین ہے. اردو وہ میٹھی زبان ہے جو ہمارے گنگا جمنی تہذیب کی پیداوار ہے.
ابوالفرح شازلی کی نظامت میں منعقد اس پروگرام کو پروگرام انچارج و ضلع الیکشن کے ڈپٹی افسر سہیل احمد، ریڈ کراس سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالکلام،  ضلع انفارمیشن افسر این این مشرا، اگنو کے ڈائریکٹر مرزا نہال بیگ، ڈی اے وی کے ڈائریکٹر ظفر پیامی، ڈاکٹر کوکب سلطانہ، مکتیشور پرشاد سنگھ پروفیسر سبحانی، پروفیسر فصیح الدین، رفعت پرویز وغیرہ نے بھی خطاب کیا. اس موقع پر اردو کے فروغ سے متعلق مقالات بھی پڑھے گئے جن میں انجمن ترقی اردو کے سکریٹری مفتی ظل الرحمن قاسمی، محمد شاکر حسین اور فرقان عالم کے مقالے کافی پسند کئے گئے.
Facebook Comments
Spread the love
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

Leave a Reply