امریکی و سعودی وزرائے دفاع کی ٹیلی فون پر گفتگو

( ایشٹن کارٹر، تصویر بشکریہ امریکی وزارت دفاع)
( ایشٹن کارٹر، تصویر بشکریہ امریکی وزارت دفاع)
(شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، تصویر بشکریہ ایس پی اے)
(محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، تصویر بشکریہ ایس پی اے)

ریاض،۲۴؍ مارچ (ایجنسیاں) امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹراور ان کے سعودی ہم منصب و نائب ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان بن عبدالعزیز نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور و مسائل کے حوالے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے آپسی تعاون پر زور دیا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات کی اور دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور سعودی عرب و دیگر عرب ملکوں کے ساتھ علاقائی، بین الاقوامی و فوجی مسائل پر تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
امریکہ کے سکریٹری برائے دفاع اور سعودی عرب کے وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے امکانات کو مزید قوی کرنے کے ساتھ ہی دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف لڑائی کی متحدہ کوششوں میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں بعض ممالک کی حمایت یافتہ انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں بھی امریکہ اور خلیجی ملکوں کے مابین آپسی تعاون کوبڑھانے پر زور دیا۔
اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک خطے میں ایرانی رول کا مقابلہ کرنے میں تعاون کریں گے کیونکہ تہران کی پالیسیوں کی وجہ سے علاقے میں صورتحال خراب ہوئی ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب نے مذکورہ امور و مسائل میں باہمی تعاون بڑھانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔
ادھر امریکی وزارت دفاع نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سکریٹری برائے دفاع اور سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلی فون پربات چیت کی اور دفاع کے شعبے میں امریکہ ۔سعودی تعلقات کی اہمیت کا اعتراف کیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنے کے ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کو مضبوط کیے جانے طور طریقوں پر بھی بات چیت کی۔ امریکی وزیر دفاع نے داعش کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے اسے مزید وسیع کرنے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں وزرائے دفاع نے آپس میں نزدیکی رابطہ بنائے رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ میں جہاں خطے میں ایران کے رول کا مقابلہ کرنے کی بات ہے ، وہیں امریکی وزارت دفاع کے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں ایران کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *