اسراہا میں مرد و خواتین کے مابین مقررین نے کہا ہم کاغذات پیش نہیں کریں گے

سیاہ قانون آپ کو اپنوں سے جدا کر دیگا، لڑائی آر پار کی ہے سڑکوں پر نکل جائیں – نظرعالم
اسراہا میں مرد و خواتین کے مابین مقررین نے کہا ہم
کاغذات پیش نہیں کریں گے
دربہنگہ (پریس ریلیز) سنویدھان بچاؤ مورچہ کے زیر اہتمام جاری بلاک سطحی اجلاس کے دوسرے دن کیوٹی بلاک کے اسراہا کنیزیہ مدرسہ میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا – جلسہ کی صدارت مکھیا خاوند اسراہا محمد خورشید عالم نے کیا – اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے کہا کہ اب ہمارے وجود کی لڑائی ہے اب کس کا انتظار ہے کوئی سیاسی راہبر آپ کی مدد کے لئے نہیں آنے والا اس مرکزی حکومت نے سیاہ قانون کو گزٹ کے ذریعہ نفاذ میں لا دیا اب وقت آگیا ہے کہ آئین کی حفاظت کے لئے ہم لوگ گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں ملحوظ رہے کہ ایک لمبے عرصے سے ہماری خواتین سیاہ قانون کے خلاف شاہین باغ دہلی میں پوری قوت کے ساتھ نبردآزما ہے اور ان کی اس بہادری سے متاثر ہو کر کلکتہ پٹنہ سمستی پور جیسی جگہوں پر ہماری بیٹیوں ماؤں اور بہنوں نے احتجاج شروع کیا ہے-
آج ہم لوگ آپ کو بیدار کرنے آئے ہیں ہم لوگ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے کوئی کاغذات پیش نہیں کریں گے ہم پوری طرح ایسے سیاہ قانون کو خارج کرتے ہیں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اکرم صدیقی نے کہا کہ آپ لوگوں کا احتجاج خود کے لئے نہیں بلکہ یہاں کے آئین کو بچانے اور دلت مہا دلت کے حقوق کو بحال رکھنے کے لئے ہے جو ابھی اس لڑائی کو نہیں سمجھ رہے ہیں مکار حکومت نے اپنے جال میں پھانس رکھا ہے لیکن آپ کے احتجاج سے اس قانون کو مسخ کرنا ہے اور آپ کی فتح یقینی ہے –
دیگر خطاب کرنے والوں میں سندیپ کمار چودھری، پرنس راج، مطیع الرحمن، دھرمیش یادو، شرد کمار سنگھ، مینک کمار یادو، صبا پروین، انیس الرحمن، ڈبلو خان، عبدالقدوس ساگر، ہمایوں شیخ، سرپنچ لوام، محمد توقیر پیکس صدر، اسراہا، محمد نوشاد، علی خان، غیاث الدین، عوامی خدمت گار محمد بھولا، تبریز عالم، محمد گڈو جلوارہ وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں – پروگرام کی نظامت انجینئر فخرالدین قمر نے بخوبی نبھایا وہیں انقلابی نوجوانوں نے انقلاب کا گیت گا کر لوگوں کو جذباتی کر دیا- پروگرام کے کنوینر ایڈوکیٹ سیف الاسلام صاحب نے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کا اختتام کیا۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply