وی سی اَپّا راؤ کے خلاف ایس آئی او کا جنتر منتر پر احتجاج

SIO Protestنئی دہلی، ۲۷ مارچ (پریس ریلیز): کیمپس ایسی جگہ ہے جہاں جمہوری ماحول اور اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ زندہ کیمپس وہ ہوتے ہیں، جو اپنے طالب علموں کوسیکھنے، لکھنے، جمہوریت پر عمل کرنےاور اپنی پڑھائی میں اپنے اقدار و فعالیت کو روبہ عمل لانے کی پوری آزادی عطا کرتے ہیں۔ ایس آئی او ملک عزیز ہندوستان میں جمہوری کیمپس کے لئے کوشاں ہے اور ملک کے تمام کیمسس میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی تمام طرح کی کوششوں کی، خواہ وہ موجودہ حکومت کی جانب سے ہو یا پھر کسی اور گروہ کی جانب سے، ایس ائی او مخالفت کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایس آئی او کے آل انڈیا صدر اقبال حسین نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (ایچ سی یو) کے معاملہ کو لے کر جنتر منتر پر ایک احتجاجی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جے این یو، ایچ سی یو اور ایف ٹی آئی آئی کے حالیہ واقعات بہت پریشان کن ہیں اور اقتدار میں موجود مرکزی حکومت کے ارادوں کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کیمپس کے جمہوری کلچر کو غیر مستحکم کرنے، اختلاف رائے رکھنےکی آزادی کو ختم کرنے، مخصوص فکر کی مخالفت کرنے اور اظہاررائے کی آزادی چھیننے کی ایک مسلسل کوشش جاری ہے۔ یہ بہت ہی تکلیف دہ بات ہے کہ جو کوئی بھی موجودہ حکومت کےنظریے یا رجحانات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، تو اسے فوری طور پر ملک مخالف اور ملک کے غدار کے طور پر برانڈیڈ کر دیا جاتا ہے۔ ایس ائی او اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ دنیا کی مضبوط اور سب سے بڑی جمہوریت کو مباحثے، اختلافات اور کھلی سوچ کی مکمل اجازت دینی چاہیے۔‘‘

ایس آئی او ایچ سی یو میں درپیش حالیہ واقعات کے لیے وائس چانسلر اَپّا راؤ کو ذمہ دار مانتی ہے۔ اس نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولس کے ظالمانہ اقدامات، لاٹھی چارج اور مار پیٹ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وائس چانسلر کو ان تمام واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ روہت ویمولا کو خودکشی کے لیے مجبور کرنے والے یونیورسٹی کے تمام افسران کو برطرف کیا جائے، روہت ایکٹ پاس کیا جائے تاکہ دلت اور اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے ساتھ امتیاز برتنے پر روک لگے اور احتجاج کرنے والے جتنے طلبہ و اساتذہ کو گرفتار کیا گیا ہے، ان سب کو فوراً رہا کیا جائے۔ ایس آئی او نے یونیورسٹی کیمپس سے پولس کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس احتجاجی جلسہ سے پروفیسر آنند کمار، دہلی جماعت سے واثق ندیم اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے دہلی صدر سراج طالب کے علاوہ کئی سماجی کارکان نے خطاب کیا۔ طلبہ نے بڑی تعداد میں موجود ہو کر نعروں کے ذریعہ اپنے غصے کا اظہار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *