وقف املاک ملت کا قیمتی سرمایہ ،ہرضلع میں ہوگی وقف بھون کی تعمیر

عامر سبحانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

پٹنہ:(نورالسلام ندوی)بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے زیر اہتمام تاریخی انجمن اسلامیہ ہال میں وقف املاک کے فروغ ، تحفظ اور بازیابی کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں بہار کے تمام وقف اسٹیٹس کے متولی، سکریٹری اور ضلع اوقاف کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں وقف اراضی کی ترقی ، تحفظ اور بازیابی سے متعلق بہت سارے ضروری اور اہم امور پر دانشوروں نے روشنی ڈالی اورکہاکہ اوقاف کی جائداد ملت اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی حفاظت اور ترقی ہرحال میں کی جائے گی اور خردبرد کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے ہوئے مولانا شمیم

مولانا شمیم منعمی کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے

منعمی سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی نے کہاکہ آج ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی اور اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ہم وقف کے سلسلے میں کتنے سنجیدہ اور مخلص ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم فیصلہ تو کرلیتے ہیں لیکن ایڈمنسٹریشن کی سطح پر مدد نہیں ملتی ہے، انتظامیہ کے تعاون کے بغیر وقف بورڈ بہت کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہر تین ماہ پر ایسی نشست منعقد ہونی چاہئے جس میں انتظامیہ کا نمائندہ ڈی ایم یا اے ڈی ایم کی شرکت یقینی ہو۔ انہوں نے کہاکہ وقف اراضی پر غیر قانونی قبضہ بڑھ رہاہے جس کی وجہ سے وقف ٹریبونل پر کیس کا دبائو بڑھ گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک سروے کاکام مکمل نہیں ہوا ہے ،جب تک سروے مکمل نہیں ہوگا اس وقت تک اوقاف کے جائیداد کی نشان دہی نہیں ہوسکے گی۔ سروے وقف بورڈ کی ریڑھ کی ہڈی کا علاج کرے گا۔

ناظم کانفرنس نورالسلام ندوی

انہوںنے متولیوں اور سکریٹریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب سے بڑا خطرہ اٹھاتے ہیں، 99فیصدی معاملہ میں بورڈ سامنے نہیں آتا ہے بلکہ متولی اور سکریٹری سامنے آتے ہیں۔ ایسے افراد کو انعام سے نوازا جانا چاہئے۔عامر سبحانی پرنسپل سکریٹری محکمہ اقلیتی فلاح نے کہاکہ 16اضلاع میں سروے کا کام چل رہاہے۔ یہ نہایت ضروری اور اہم کام ہے۔ اس سے اوقاف کی جائیداد کی نشان دہی ہوگی۔ اس لئے متولی حضرات کی ذمہ داری ہے کہ سروے آفیسر کے یہاں وقف اراضی کا اندراج ضرورکروائیں۔ سینٹر ل وقف کونسل نئی دہلی کے چیف اکزیکیوٹیو آفیسر بی ایم جمال نے سینٹرل وقف کونسل کے اسیکموں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ مرکزی حکومت اوقاف کی ترقی کیلئے مختلف اسکیمیں چلارہی ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھایاجائے۔ ایس آئی فیصل اسپیشل سکریٹری کم ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی فلاح نے بہار سرکار کے ذریعہ کئے جارہے اقلیتی کاموں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور کہاکہ میرا زیادہ تر وقت وقف کے مسائل کے نپٹانے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح نے ایک خصوصی سیل بنایاہے جہاں اقلیتوں خاص طور پر وقف سے متعلق درخواستوں اور مسائل کا نپٹارہ کیا جاتاہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ سنی وقف بورڈ اپنے طورپر خود ایک ادارہ بنے۔ اس موقع پر انہوںنے کہاکہ حج بھون کے طرز پر ہر ضلع میں وقف بھون کی تعمیر کی جائے گی۔ وقف بورڈ کے توسط سے اس کا کام چل رہاہے اور ہر ضلع میں زمین کی تلاش کی جارہی ہے۔ جیسے ہی زمین مل جائے گی، ہم وقف بھون کی تعمیر کیلئے رقم جاری کردیںگے۔ نوشاد احمد سی ای او وقف بورڈ نے کہاکہ وقف بورڈ جدید ٹیکنک سہولتوں سے آراستہ ہورہاہے۔ اب وقف سے اس کی ادائیگی آن لائن نیٹ بینکنگ کے ذریعہ کی جائے گی۔ انہوںنے وقف بورڈ کی سالانہ حصولیابیوں اور کارگزاریوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ امتیاز احمد کریمی ڈائریکٹر اردو ڈائریکٹوریٹ نے وقف ایکٹ کے اہم مفاد پر روشنی ڈالی جب کہ سید شاہ سیف الدین فردوسی نے وقف کی اہمیت ومعنویت پر اظہارخیال کیا۔ اس موقع پرراکیش آنند نے پاورپوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ وقف فیصدی آن لائن ادائیگی کے طریقے بتائے۔ جب کہ محمد رؤف عالم نے جی پی ایس کوڈینیٹ کے ذریعہ وامسی کے ویب سائٹ پر اپلوڈ کے طریقے پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کی نظامت نورالسلام ندوی نے خوبصورانداز میں کی۔ انہوںنے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کانفرنس وقف املاک کے فروغ، تحفظ اور انکروچمنٹ ہٹانے کے سلسلے میں سنگ میر ثابت ہوگا۔ کانفرنس میں مختلف وقف اسٹیٹس کے متولیوں اور سکریٹریوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وقف سے متعلقدرپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *