پانی زندگی ہے

۲۲ مارچ، عالمی پانی دن پر خصوصی
ریور ایکشن انڈیا نیٹ ورک (رین) کا آغاز

water problem

گوہر آصف

دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح ہمارے ملک ہندوستان میں بھی پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہے. اس کی بربادی بغیر روک ٹوک اور کھلے عام ہو رہی ہے. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ لوگ اس کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود غفلت برتتے ہیں اور پانی کو برباد کر رہے ہیں. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا اور لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ قدرت نے ہمیں کئی قیمتی تحفوں سے نوازا ہے ان میں سے پانی بھی ایک ہے. اس لیے ہمیں اس کی حفاظت کرنا ہے. پانی کی کمی کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس سے دو چار ہیں. ہم کھانے کے بغیر دو تین دن زندہ رہ سکتے ہِیں مگر پانی کے بغیر زندگی کی گاڑی کا آگے بڑھنا ممکن نہیں لگتا ہے. پانی لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. کھیتی باڑی سے لے کر مختلف اقسام کے چھوٹی بڑی صنعتوں میں، لوگوں کی روزی روٹی پانی سے ہی منسلک ہے. خاص طور سے آمدنی کے ذرائع کے حصول میں انسان پانی کا اندھادھند استعمال کر رہا ہے. ہمیں مستقبل کی فکر بالکل نہیں ہے اور نہ ہی ہم کرنا چاہتے ہیں. اگر ترقی کی اندھا دھند دوڑ میں انسان اسی طرح شامل رہا تو ہماری آنے والی نسل قدرت کے انمول تحفے پانی سے محروم رہ سکتی ہے.
پانی کے بحران کے سبب دنیا کے کونے کونے جھگڑا فساد ہو رہا ہے. آج ہر علاقے میں ترقی ہو رہی ہے. دنیا صنعت کاری کی راہ پر تیزی سے چل رہی ہے، لیکن صاف اور بیماری سے پاک پانی مل پانا مشکل ہو رہا ہے. دنیا بھر میں صاف پانی کی عدم دستیابی کے سبب پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں وبا کی شکل اختیار کر رہی ہیں. کہیں کہیں تو یہ بھی سننے کو آتا ہے کہ اگلی عالمی جنگ پانی کے لیے ہی ہوگی. انسان پانی کی اہمیت کو مسلسل بھولتا گیا اور اسے برباد کرتا رہا، جس کے نتیجے میں آج پانی کا بحران سب کے سامنے ہے. دنیا کے ہر شہری کو پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے ۱۹۹۳ میں ”ورلڈ واٹر ڈے” منانا شروع کیا تھا. اس کے لیے ۲۲ مارچ کا دن مقرر کیا گیا۔ ۲۲ مارچ پانی کے بچانے کے عزم و ارادے کا دن ہے. یہ دن پانی کی اہمیت کو جاننے اور وقت رہتے اس کے تحفظ کے لیے بیدار رہنے کا دن ہے.
ہر سال ۲۲ مارچ کو عالمی پانی دن منایا جاتا ہے. اس بار بھی ورلڈ واٹر ڈے پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے. آئیے عالمی پانی دن کے موقع پر اس بات کا عزم کریں کہ ہم سب مل کر پانی کو بچائیں گے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسل کو قدرت کا انمول تحفہ سوغات کے طور پر دے سکیں. اس خاص دن کے موقع پر ایک نئی پہل کا آغاز کرتے ہوئے ٹاٹا سوشل سائنس انسٹی ٹیوٹ اور قومی پانی مشن نے مل کر “رین” (ریور ایکشن انڈیا نیٹ ورک) کا آغاز کیا ہے. اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد قومی پانی مشن کے دوسرے ہدف ”پانی کے تحفظ، احیاء اور تحفظ کے لیے شہری اور ریاستی کارروائی کا فروغ ” کے منصوبہ پر عمل آوری کرنا ہے. اس کے علاوہ یہ نیٹ ورک ”پانی کے تحفظ، پانی کے غلط استعمال کو کم کرنے اور مختلف ریاستوں میں اس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے پانی کے وسائل کے مربوط انتظام کے مقصد کو حاصل کرنے” کی راہ پر گامزن رہے گا.
ٹاٹا سوشل سائنس انسٹی ٹیوٹ (ٹي ايس ایس آئی) حکومت ہند کے قومی پانی مشن ڈائریکٹوریٹ، وزارت برائے آبی وسائل، ندیوں کی ترقی اور گنگا تحفظ کے کے تعاون سے قومی پانی مشن کے دوسرے ہدف ”پانی کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کے لیے شہری اور ریاست کارروائی کی فروغ” کے منصوبہ پر عمل آوری کر رہا ہے.
این ڈبليوایم -ٹي آئی ايس ایس واٹر پروجیکٹ، ٹي آئی ايس ایس پانی کے شعبے میں قیادت کی ایک پہل ہے جس کا مقصد قومی پانی مشن کے دوسرے مقصد ”پانی کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کے لیے شہری اور ریاستی کارروائی کی فروغ” پر عمل آوری کرنا ہے. یہ منصوبہ دریا کے بیسن کی سطح پر پانی کے انتظام کے لیے ایک جامع اور منصفانہ بنیاد پر ماڈل کا تصور ہے جہاں مقامی لوگ، مختلف کارکن اور ادارے، فعال طور پر پانی کے تحفظ، فروغ اور اس کے صحیح استعمال سے ماحولیاتی نظام اور انسان کے درمیان ایک توازن بنانے کے لیے مصروف ہیں. اس منصوبے ”پانی کے تحفظ، پانی کے غلط استعمال کو کم کرنے اور مختلف ریاستوں میں اس کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی طرف پانی کے وسائل کے مربوط انتظام کے مقصد کو حاصل کرنے” کی راہ پر گامزن ہے. ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں لوگ اس نیٹ ورک کا حصہ بنیں گے اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے پانی کے تحفظ اور فروغ کے لیے ضروری قدم اٹھائیں گے. ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر اس نظم کے ذریعے پانی کو بچانے کی قسم کھاتے ہیں:
قسم ہے اے پانی، بچا کر رہوں گا میں تجھ کو،
نہیں ہوگی نا انصافی تیرے ساتھ
تیری اہمیت میں جانتا ہوں
نہیں آگے بڑھ پائے گی زندگی تیرے بغیر
نہیں رہ پائیں گے جانور زندہ تیرے بغیر
نہیں ہو پائے گی کھیتی تیرے بغیر
تیری اہمیت میں جانتا ہوں
تو ایک ہی تھا، ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گا
جس سے منسلک ہے زندگی کا خواب
قسم ہے اے پانی، بچا کر رہوں گا میں تجھ کو
اس کے لیے بھلے ہی کچھ بھی کرنا پڑے
تیری زندگی سے ہی لوگوں کی زندگی ہے
تو نہیں تو زندگی نہیں
تیری اہمیت میں جانتا ہوں
قسم ہے اے پانی، بچا کر رہوں گا میں تجھ کو

(مضمون نگار این ڈبليوایم- ٹي آئی ايس ایس واٹر پروجیکٹ کے سینئر پروجیكٹ افسر برائے کمیونی کیشن اور ایڈووکیسی ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *