ہم نے ۱۲۵ وعدے پورے کیے: سدا رمیا

محمد امین نواز
بیدر:
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے کہا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں رائے دہندوں سے کیے گئے ۱۶۵؍میں سے ۱۲۵؍ وعدے پورے کیے گئے ہیں اور باقی وعدے ۱۸۔۲۰۱۷ کے بجٹ میں پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے بدھان سودھا کے کانفرنس ہال میں حکومت کی حصولیابیوں،پروگراموں، منصوبوں اور ترقی کے سلسلہ میں مجموعی طورپر معلومات دینے والی ’پرتیبمب‘ نامی ویب سائٹ کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ جمہوریت میں حکومتیں عوام، اسمبلی اور قانون ساز کونسل کو جوابدہ ہوتی ہیں۔ انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے پورے ہونے کی معلومات عوام کو ہونی چاہیے۔ مینڈیٹ ملنے کے بعد انتظامیہ چلانے والی حکومت بد عنوانی سے پاک انتظامیہ، عوام کی توقعات کے مطابق انتظامیہ دینے کا تیقن دیتی ہے۔اس لیے عوام کو معلومات حاصل کرنے کا حق ہے۔ اس کے لیے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ اس لیے آج کے بعد میں پرتیبمب کا تعارف کروایا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار آندھرا پردیش کی حکومت نے اس طرح کا پلیٹ فارم تیار کیا تھا۔ دوسری بار کرناٹک حکومت نے ویب سائٹ لانچ کیا ہے۔ اس میں حکومت کے تمام محکمہ جات کے اہم منصوبے، حکومت سے جاری گرانٹ، اخراجات، ترقی اور دیگر تفصیلات دستیاب ہوں گی۔ہر ماہ تمام معلومات اپ لوڈ کی جائیں گی۔ تمام محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹری کو ہرماہ کی۱۰؍ تاریخ کو اپ لوڈ کرکے اس کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کریشی بھاگیہ اسکیم کے تحت۸۹ ؍ ہزار کریشی کنڈ تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا گیاتھا۔ حکومت نے ایک لاکھ ۱۵؍ ہزار کنڈ تعمیر کیے ہیں۔ اس سے بنجر زمین میں بھی کاشت ہونے لگی ہے۔ دیگر۳۰؍ہزار کنڈ تعمیر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ملک میں پہلی بار سال۱۵ ۔ ۲۰۱۴کے دوران یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ حکومت نے ۲۵۰۰؍ پولی ہاؤس بنائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے۱۲۵؍وعدے پورے کیے ہیں۔ بقایا وعدے اس سال بجٹ میں پورے کیے جائیں گے۔ آبپاشی کے منصوبوں کے لیے ہر سال ۱۰؍ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔گذشتہ چار سال میں۴۴؍ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ حکومت کل۵۰؍ہزار کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ویب سائٹ پر جاری تمام معلومات اگلے انتخابات میں عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔

اس موقع پر ریاستی وزیر برائے ریونیو کاگوڑ تمپا، قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر ٹی بی جے چندر ، ریاستی وزیر برائے جنگلات رمناتھ رے اور سیاحت کے وزیر پرینک کھرگے اور کئی محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹری اور سینئر افسران موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *