جمعیۃ علماء کی قومی یکجہتی کانفرنس میں امڈی لاکھوں کی بھیڑ

آئین اور سیکولرازم کی حفاظت کے لیے آخری سانس تک جدوجہد جاری رہے گی: مولانا ارشد مدنی

سامعین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی
سامعین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی

نئی دہلی، ۱۲ مارچ (نامہ نگار): جمعیۃ علماءِ ہند کے ذریعہ آج دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں قومی یکجہتی کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ آج کی یہ کانفرنس شری شری روی شنکر کے ذریعہ کل شروع کیے گئے ’’ورلڈ کلچر فیسیٹول‘‘ میں امڈی بھیڑ سے کسی بھی طرح کم تر نہیں تھی۔ ایک طرف جہاں شری شری روی شنکر نے مختلف ثقافتی پروگراموں کے ذریعہ دنیا کو امن و شانتی کا پیغام دیا، اسی طرح جمعیۃ علماءِ ہند نے بھی قومی یکجہتی کانفرنس سے ملک کے سیکولر کردار کی حفاظت کرنے کا عہد کیا۔

قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماءِ ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے  کہا کہ ’’ملک کے موجودہ حالات انتہائی مایوس کن ہیں اور خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چاروں طرف گھٹن کا ماحول ہے اور لوگوں کی تشویشیں بڑھ رہی ہیں۔ اسی گھٹن کو محسوس کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے آج قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔‘‘ مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’آئین اور سیکولرازم کی حفاظت کے لیے ہم آخری سانس تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اس کے لیے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دینے کو تیار ہیں۔‘‘؎

قومی یکجہتی کانفرنس میں امڈی بھیڑ کا منظر
قومی یکجہتی کانفرنس میں امڈی بھیڑ کا منظر

مولانا سید ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سر دست جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں، وہ ملک کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جانے والی ہیں۔ آج فرقہ پرستی کا جو ننگا ناچ ہو رہا ہے، ایسا ملک کی آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کے ۶۰۔۷۰ سالوں میں کبھی نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج سارا ملک، شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب تک کرب اور شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو چکا ہے۔ ملک کی اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں اور عیسائیوں میں بہت زیادہ مایوسی اور خوف پایا جا رہا ہے، کیوں کہ فرقہ پرستوں کے نشانے پر یہی دونوں قومیں ہیں۔ گھر واپسی کے نعرے دیے جا رہے ہیں، زہر اُگلا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مذہبی شدت کو ہوا دی جا رہی ہے، جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک میں نراج ہے، راج نہیں ہے۔ آج وہ کہہ رہے ہیں کہ ۳۰ کروڑ مسلمانوں کو ہندو بنا دیں گے، ۵ کروڑ عیسائیوں کو ہندو بنا دیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ صرف انھوں نے ہی ماں کا دودھ پی رکھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو اس ملک کی صدیوں پرانی روایت و تہذیب اور اخوت و محبت کی روایتوں کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔‘‘

کانگریس صدر سونیا گاندھی کانفرنس میں تو شریک نہیں ہوئیں، تاہم انھوں نے اپنا تحریری پیغام وہاں تک ضرور بھجوایا، جسے سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آْزاد نے پڑھ کر سنایا۔ اپنے پیغام میں سونیا گاندھی نے جمعیۃ علماء کے اس قدم کی تعریف کی اور کانفرنس کی کامیابی کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *