ویسٹ انڈیز بنا ٹی ۔۲۰؍ عالمی چمپئن

بین اسٹاکس کے آخری اوور میں براتھویٹ نے چار چکھے لگاکر انگلینڈ کے ہاتھ سے چھینا کپ

w-indies1کولکاتا، ۳؍ اپریل (سی این ایم) ٹی۔۲۰؍ عالمی کپ کے فائنل میں آج ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو چار وکٹ سے شکست دے کر دوسری باراس خطاب پر قبضہ کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ یہاں ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس دلچسپ میچ کے آخری اوور میں اس وقت فیصلہ ہوا جب ویسٹ انڈیز کے بلے بازکارلوس براتھویٹ نے لگاتار چار چھکے لگاکر پورا پانسہ پلٹ دیا۔ ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے چھ گیندوں پر ۱۹؍ رنوں کی ضرورت تھی۔ گیند بین اسٹاکس کے ہاتھ میں تھی۔ بین اسٹاکس کی پہلی گیند پر براتھویٹ نے چھکا لگایا، دوسری گیند بھی ہوا میں تیرتی ہوئی بانڈری کے باہر، تیسری بال بلے سے لگنے کے بعد آسمان کی طرف گئی اور وہ بھی میدان سے باہر۔ اس طرح اب تین گیندوں میں صرف ایک رن کی ضرورت تھی لیکن براتھویٹ نے اسے بھی چھ رنوں کے لیے بانڈری سے باہر بھیج دیا۔ براتھویٹ نے محض ۱۰؍ گیندوں پر ایک چوکا اور چار چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤ ٹ ۳۴؍ رن بنائے۔ لیکن ویسٹ انڈیز کو اس مقام تک پہنچانے میں مارلون سیموئلس کا اہم رول رہا۔پہلی بار ۲۰۱۲ء میں خطابی جیت حاصل کرنے والی کیربیائی ٹیم کے لئے سیموئلس نے ایک بار پھر میچ جتا نے والی اننگ کھیلی۔ سیموئلس نے ۶۶؍ گیندوں پر۹؍ چوکے اور دو چھکے لگا کر نہ صرف ایک سرے پر وکٹ کا گرنا روکے رکھا بلکہ اس جیت کے اصلی محرک بھی وہی رہے۔
یاد رہے کہ سیموئلس نے ۲۰۱۲ء میں سری لنکا میں ہونے والے فائنل میچ میں ۷۸؍ رنوں کی اننگ کھیلی تھی۔ سیموئلس نے ڈوائن براووکے ساتھ ۷۵؍ اور پھر براتھویٹ کے ساتھ ناٹ آؤٹ ۵۴؍ رنوں کی ساجھیداری کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو عالمی چمپئن بنانے میں نمایا ں کردار ادا کیا۔
انگلینڈ کی ٹیم ۲۰۱۰ء کے بعد دوسری بار عالمی خطاب جیتنے میں ناکام رہی۔ اس کی جانب سے ڈیوڈ ویلی نے تین وکٹ لیے جبکہ جوائے روٹ کودو وکٹ ملے۔
اس سے پہلے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بلے بازی کرنے اتری انگلش ٹیم نے مقررہ۲۰؍ اووروں میں ۹؍ وکٹ کے نقصان پر۱۵۵؍ رن بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے اس کے ا سٹار بلے باز جوائے روٹ نے سب سے زیادہ۵۴؍ رن بنائے جبکہ جوس بٹلر نے ۳۶؍ رن جوڑے۔ ڈیوڈ ویلی نے ۲۱؍ رنوں کی تیز اننگ کھیلی۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے کارلوس براتھویٹ اور ڈوائن براوو نے تین تین وکٹ لیے جبکہ سیموئیل بدری نے ایک بار پھر بہترین بالنگ کرتے ہوئے ۱۶؍ رن دے کر دو وکٹ حاصل کیے۔

بدری نے اپنی ٹیم کو بہترین آغاز دلاتے ہوئے جیسن رائے (۰) کو پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر چلتا کیا تھا۔ اس کے بعد آندرے رسل نے ایلکس ہالس(۱) اور بدری نے کپتان ایون مورگن (۵) کو چلتا کر کے انگلینڈ کی کمر توڑ دی تھی۔

اس کے بعد حالانکہ جوس بٹلر اور روٹ نے چوتھے وکٹ کے لیے۶۱؍ رنوں کی شراکت کرتے ہوئے انگلینڈ کو سنبھالنے کا کام کیالیکن تب تک شاید دیر ہوچکی تھی۔

بٹلر نے ۲۲؍ گیندوں پر ایک چوکا اور تین چھکے لگائے۔ اس کے بعد روٹ نے بین اسٹوکس (۱۳) کے ساتھ ۲۶؍ رن جوڑے۔ اسٹوکس ۱۱۰؍ کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے جبکہ روٹ کو براتھویٹ نے ۱۱۱؍ کے مجموعی اسکور پر سلیمان بین کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

سال۲۰۰۷ء میں شروع ہوئے آئی سی سی ٹی ۔۲۰؍ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، جب کسی ایک ہی ملک (بورڈ) سے وابستہ خواتین اور مردوں کی ٹیم نے خطاب پر قبضہ کیا ہے۔کولکاتا کے اسی میدان پر دن میں کھیلے گئے خواتین کے فائنل مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو شکست دے کر خطاب پر قبضہ کیا تھا۔

سیموئلس کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا جبکہ مین آف دی ٹورنامنٹ کا خطاب ٹیم انڈیا کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی کے نام رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *