کیا ہے این آر سی؟

نئی دہلی:آسام کے باشندے ہندوستان کے شہری ہیں یا انہیں ، اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری حکومت کی نہیں بلکہ باشندوں کی ہے۔ اتفاق سے آسام کے باشندوں کو اپنی شہریت کے ثبوت کی حمایت میں وہ دستاویز یا دستاویزات پیش کرنے ہوں گے ، جو انہیں سرکاری حکام کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ان دستاویزات میں سے ایک نہایت ہی اہم ووٹر لسٹ ہے۔ ’نیشنل رجسٹر آف سٹیزن‘ (این آرسی) اصل میں وہ رجسٹر ہے جس میں آسام کے ان باشندوں کے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے شہری ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ قومی شہریت رجسٹر کے حوالے سے آسام ہی کا کیوں نام آرہا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد بہت سے لوگ پاکستان چلے گئے تھے۔ آسام کی سرحد مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش سے ملتی ہے۔ سرحدی علاقہ نہایت ہی دشوار گزار اور مخدوش ہے۔ بنگلہ دیش کی تشکیل کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے ایسے علاقے رہ گئے تھے، جو ایک دوسرے کی سرحدوں کے اندر تھے۔ پہلے ایک ہی ملک کے شہری تقسیم کے سبب راتوں رات الگ الگ ملکوں کے شہری بن گئے۔ لیکن سرحدی علاقوں کی صورت حال سے واقفیت رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ وہاں کے باشندوں کو بہت دنوں تک اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں۔ اس کے پیش نظر آسام میں ۱۹۵۱ء میں این آرسی بنایا گیا اور اس میں وہاں کے باشندوں کے نام درج کیے گئے۔ اس رجسٹر میں جن لوگوں کے نام تھے، انہیں ہندوستان کا شہری قرار دیا گیا اور بقیہ کو غیرملکی۔ اس رجسٹر کے مطابق کتنے لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا گیا، اس کی حتمی فہرست کے بارے میں تحقیق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
آسام میں شہریت کا مسئلہ ۱۹۷۱ء کے بعد شدت سے اٹھایا گیا۔ آسام میں آسامی اور غیرآسامی کی سیاست کرنے والے گروہوں نے اس بنگلہ زبان بولنے والوں یا مسلمانوں کو غیرملکی بالخصوص بنگلہ دیشی قرار دینا شروع کیا۔ اسی مسئلہ کے حل کے لیے ۱۹۸۶ء میں ایک بار پھر کوشش شروع ہوئی۔ اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور آسام کے وزیر اعلیٰ پرفل کمار مہنت کے درمیان سمجھوتہ ہوا۔ اسی سمجھوتہ کے تحت آسام کے باشندوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کہا گیا۔ پہلے کہا گیا کہ جن لوگوں کے نام ۱۹۵۱ء کے ووٹر لسٹ میں ہیں یا جو ۱۹۶۶ء سے آسام میں رہ رہے ہیں، انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ہندوستان کا شہری تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد پھر اس میں ترمیم کی گئی اور کہا گیا کہ جو ۲۴؍ مارچ ۱۹۷۱ء یعنی بنگلہ دیش کی آزادی یا تشکیل سے ایک دن پہلے سے آسام میں سکونت پذیر ہیں، وہ اور ان کے اہل خانہ ہندوستان کے شہری ہوں گے۔ البتہ مشکل یہ ہے کہ اپنی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری آسام کے باشندوں کی ہے۔ اسی کے تحت ۲۰۱۴ء سے یہ عمل شروع ہوا۔ جب این سی آر کا پہلا مسودہ جاری کیا گیا تو اس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کا نام شامل نہیں تھا۔ اس لیے این آرسی کی پہلی فہرست میں شامل نہیں کیے جانے والوں کو دوبارہ موقع دیا گیا۔ اب جبکہ ۳۰؍ جولائی کو دوسرا مسودہ آیا ہے، اس میں ۴۰؍ لاکھ افراد کے نام شامل نہیں ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے نام دوسرے ڈرافٹ میں شامل نہیں ہیں، انہیں اپنی شکایت کرنے اور غلطیوں کو درست کروانے کے لیے بھرپور موقع دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آسام میں شہریوں کی شناخت بلاتفریق مذہب وملت کی جارہی ہے جبکہ بی جے پی کے کئی رہنما اعلانیہ طور سے آسام کو مسلمانوں سے پاک کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ ویسے بھی خود وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ہندومہاجرین کا ہندوستان میں خیرمقدم کیے جانے کے حق میں ہیں۔ آسام میں شہریت کے سوال پر جاری بحث کو حکمراں جماعت بی جے پی کی سیاسی چال قرار دیا جا رہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ وہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مذہبی کارڈ کھیل رہی ہے۔ ویسے بھی حکومت لوگوں سے ایسے دستاویز دکھانے کے لیے کہہ رہی ہے جیسے اس نے ملک کے ہر ایک شہری کو ضروری دستاویز فراہم کر رکھا ہے اور جو فراہم کیا ہے وہ سب کے سب درست اور صحیح ہیں؟
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *