کانگریس کو کب سمجھ میں آئے گا؟

asfarاسفر فریدی

کانگریس پارٹی کے گفتار اور کردار میں شروع ہی سے بڑا فرق رہا ہے، لیکن پہلے وہ عام لوگوں کے لیے ایک مجبوری تھی کیونکہ سیاسی میدان میں کوئی دوسری پارٹی مدمقابل نہیں تھی۔ عوام اور خاص طور سے کمزوروں، پسماندوں اور اقلیتوں کی اس کمزوری کا کانگریس نے برسہابرس تک خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کے سہارے وہ اقتدار کی کرسی پر بلا شرکت غیربراجمان ہوتی رہی۔ اس کی وجہ سے ملک کی اس سب سے پرانی سیاسی پارٹی کی عادت بگڑ گئی۔ اس کے اندر سے یہ احساس جاتا رہا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ بھی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سیاسی میدان میں لگاتار پٹخنی کھانے کے باوجود اس کی اس پرانی عادت میں کوئی تبدیلی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کی تازہ مثال راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سرکردہ رہنما غلام نبی آزاد کی اپنے بیان سے روگردانی کی کوشش ہے۔ غلام نبی آزاد نے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے نئی دہلی میں منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس میں کانگریس پارٹی اور بطورْ خاص پارٹی کی صدر محترمہ سونیا گاندھی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ ہر طرح کی فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ کانگریس پارٹی سیکولرزم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے اور انتہا پسندی کی مخالفت کرتی ہے۔ اس لیے ہم ’آرایس ایس کی بھی اسی طرح مخالفت کرتے ہیں جس طرح آئی ایس (داعش) کی مخالفت کرتے ہیں۔‘ غلام نبی آزاد کی یہ باتیں جب میڈیا کے ذریعے عام ہوئیں تو حکمراں جماعت بی جے پی نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔ پارٹی کے لیڈر مختار عباس نقوی نے غلام نبی آزاد سے اس بیان کے لیے معافی مانگنے اور اپنی بات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ آرایس ایس کے دفاع میں اتری بی جے پی کے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی بجائے غلام نبی آزاد اور پوری کانگریس پارٹی دفاعی پوزیشن میں آگئی ۔غلام نبی آزاد نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آرایس ایس کا آئی ایس سے کوئی موازنہ نہیں کیا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد سے یہاں تک کہتے سنے گئے کہ ان کی تقریر کی سی ڈی موجود ہے، اس کو دیکھ لیں۔
غلام نبی آزاد اور ان کے ساتھ ہی پوری کانگریس پارٹی کے دفاعی پوزیشن میں آنے سے کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو یہی کہ اگر غلام نبی آزاد صاحب کی نظر میں آرایس ایس ملک وقوم اور انسانیت کے لیے خطرناک پارٹی نہیں ہے تو انہوں نے یہ بات کیوں کہی تھی کہ جس طرح وہ آرایس ایس کی مخالفت کرتے ہیں اسی طرح آئی ایس کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ دونوں تنظیموں کا ایک ساتھ اور ایک ہی سانس میں تذکرہ کرنے کا کیا مطلب نکالا جائے ؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ کہ آرایس ایس کے بارے میں کانگریس کا اصلی موقف کیا ہے؟ کیا وہ اسے ایک انتہاپسند تنظیم مانتی ہے یا پھر اس کی نظر میں بھی آرایس ایس ایک ثقافتی تنظیم ہے جیسا کہ سنگھ اور اس کی سیاسی شاخ بی جے پی کا دعویٰ ہے؟ اگر کانگریس کی نظر میں آرایس ایس انتہاپسند تنظیم نہیں ہے تو پھر اس کے خلاف گاہے گاہے ہی سہی ، کیوں ہنگامہ کھڑا کرتی ہے، اور اگر وہ واقعتاً انتہاپسند تنظیم ہے تو پھر اس کے خلاف کھلے عام میدان میں کیوں نہیں آتی؟ اس کی کیا مجبوریاں ہیں اور کب تک ان مجبوریوں کو وہ ڈھوتی رہے گی؟ کیا مسلمانوں کے درمیان اپنے کسی مسلم چہرہ والے لیڈر کو بھیج کر ان کی زبانی سیکولرزم کا نعرہ لگوادینے سے ملک میں سیکولرزم کا بول بالا ہوجائے گا یا پھر کانگریس سیکولر ہوجائے گی؟
یہ اور ایسے بہت سے سوالات ہیں ، جن کا جواب کانگریس کو بہر حال دینا پڑے گا۔ ابھی ملک کے جوحالات ہیں ، ان سے بھی کانگریس کو فوری طور پر ایک سبق لینے کی ضرورت تھی، مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ خواب خرگوش میں کھوئی ہوئی ہے اور اس کے ہوش ہوا ہوگئے ہیں۔ ملک میں مذہبی اقلیتوں، دلتوں ، کمزوروں ، پسماندوں اور طالب علموں پر ہو رہے مظالم کے خلاف کانگریس میدان میں آنا تو دور ، اس کے کنارے کھڑے ہوکر تماشائی بھی نہیں بن پارہی ہے۔ کبھی کبھی اس کے نائب صدر کہیں کہیں چلے جاتے ہیں اور مظلوموں کے کندھوں پر اپنے آنے کے احسان کا بوجھ ڈال جاتے ہیں۔بس ! دنیا جانتی ہے کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، لیکن ہندوستان میں ایک طرف جہاں اکثریت کے ووٹوں سے منتخب ہوئی حکومت مٹھی بھر لوگوں کی منھ بھرائی میں مگن ہے تو دوسری جانب کانگریس اور اقتدار دور دوسری پارٹیوں کی سرگرمیوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اس کی وجہ سے اپوزیشن کی ذمہ داری طلباء اور سماجی کارکنوں کے کندھوں پر آگئی ہے، جسے وہ بخوبی نبھا رہے ہیں۔ قومی راجدھانی دہلی اور ملک کے دوسرے شہروں میں لگاتار ہورہے مظاہرے اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
کانگریس اور دوسری نام نہاد سیکولر پارٹیاں سیکولرزم کے نام پر ایک اور کھیل کھیل رہی ہیں۔ بی جے پی اور ہندوتوا کی انتہاپسندانہ سیاست سے مقابلہ کرنے کے لیے خود آگے آنے کی بجائے وہ اپنی ہمنوا مسلم تنظیموں کو سامنے لا رہی ہیں۔ گویا یہ پارٹیاں اپنے ہمنوا مسلم رہنماؤں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر آرایس ایس کو نشانہ بنارہی ہیں۔ یہ اسی طرح کا عمل ہے جیسے فرقہ وارانہ ذہنیت کے افراد یا تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف فساد میں دلتوں ، کمزور اور پسماندوں کو آگے کردیتے ہیں۔ اس کا دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ ایک تو یہی کہ دلت اور پسماندہ طبقات جو خود کو مسلمانوں کے نزدیک پاتے ہیں، ان سے الگ ہونے لگتے ہیں اور دوسرے نقصان صرف مسلمانوں یا دلتوں و پسماندہ طبقات کا ہوگا۔ وہی مارے جائیں گے، وہی زخمی ہوں گے ، وہی آپس میں ایک دوسرے کو لوٹیں گے۔اسی طرح کانگریس اور یہاں تک کہ کبھی کبھی کمیونسٹ پارٹیاں بھی آرایس ایس کے خلاف مورچہ سنبھالنے کے لیے اپنے مسلم چہروں کو آگے کردیتی ہیں۔ ملک میں سیاسی افکار ونظریات کی سمجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظر میں سبھی پارٹیاں ایک جیسی ہیں ۔ ان کے نزدیک کمیونسٹ ، کانگریس اور بی جے پی یا بی ایس پی اور سماجوادی یا پھر جنتادل متحدہ یا راشٹریہ جنتادل میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ ہاں وہ یہ جانتے ہیں کہ کون کس پارٹی کا لیڈر ہے اور اس کی ذات یا مذہب کیا ہے؟ اس لیے اگر غلام نبی آزاد بولتے ہیں تو عام لوگوں کے لیے ان کی باتیں ایک کانگریس لیڈر سے زیادہ ایک مسلم لیڈر کی ہوتی ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رہنماؤں کا اسی طرح استعمال کرتی ہیں۔ جب تک حالات ٹھیک رہتے ہیں، وہ اپنا محاسبہ نہیں کرتی ہیں، لیکن جب سب کچھ ہاتھ سے جانے لگ جائے تو کم سے کم اس وقت تو ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔ کانگریس اور ملک کی زیادہ تر سیکولر کہلانے والی پارٹیاں اب بھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کمیونسٹ پارٹیاں بھی مغربی بنگال ، کیرل اور تریپورہ سے آگے نہیں دیکھ پارہی ہیں۔ بہار میں صرف انتخابی میدان میں ایک اچھا تجربہ ہوا جو کامیاب رہا لیکن نظریاتی اعتبار سے اس کی بنیادیں مضبوط نہیں کی جارہی ہیں۔ نتیش کمار سے ایک امید جاگی تھی ، لیکن وہ کبھی کبھی ہی قومی مسائل پر اپنی زبان کھولتے ہیں۔ یہ صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔
(بشکریہ روزنامہ انقلاب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *