ہجومی تشدد، جڑمیں کون؟

مولانا عبدالحمید نعمانی
چاہے مذہب ہو یا تہذیب و تمدن، سب انسان کی ترقی، بھلائی اور اسے بہتر سماج، پر امن معاشرہ فراہم کرنے کے لیے ہوتے ہیں- اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو واضح طور سے سمجھ لینا چاہیے کہ مذہب کے نام یہ کوئی اور ہی چیز ہے، یا اس کا غلط استعمال ہورہاہے- سنسکرتی اور تہذیب کے نام پر سماج کو غیر مہذب جنگل اور وحشت و بربریت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے- زور زبردستی سے کسی بھی نظریہ طرز زندگی کو دوسروں پر لادنے سے انسانی معاشرے کی آزادی ختم ہوجاتی ہے- جب انسان کو محسوس ہو کہ ہماری زندگی اور آزادی ختم کردی گئی ہے، یا وہ خطر ے میں ہے تو وہ بچانے کے لیے مزاحمت کرتاہے، جو بسا اوقات باہمی تصادم اور قتل و غارت گری میں بدل جاتی ہے- اس کا واحد علاج اور تحفظ کا راستہ آزادی اور پر امن طور پر اپنے نظریے کو انسانی سماج کے سامنے پیش کرنا ہے- جب کوئی کمیونٹی اکثریت میں ہوتی ہے تو وہ اقلیتوں کی آزادی کو ختم کرکے ان پر اپنی پسند اور مرضی کو لادنا چاہتی ہے- یہ جذبہ اپنی برتری کی غلط خواہش سے پیدا ہوتی ہے- اگر اس پر قانون یا اقتدار کے ذریعے سے روک نہیں لگائی جاتی ہے تو سماج، وحشت و بربریت میں اورا قتدار، جنگل راج میں تبدیل ہوکر رہ جاتاہے- بھارت میں بھی کچھ طاقتیں اور عناصر ہیں جو انسانی آبادی کو وحشت و بر بریت اور جنگل راج کی سمت میں لے جانے کی کوشش کررہے ہیں- اس کا ایک افسوس ناک اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کرنے والے افراد، اس میں کچھ ذاتی و سیاسی مفادات کے حصول کے لیے معاون بن جاتے ہیں-
اگر ملک کے حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو صاف صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ شدت پسندی اور زور زبردستی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے- اس مہم میں شامل افراد بڑی عجلت میں ہیں کہ ملک اور سماج کو اپنے طرز حیات کے رنگ اور پسند کے مطابق بدل دیا جائے گرچہ اس کے لیے سرگرمیاں ماضی بعید و قریب سے جاری ہیں، تاہم گرشتہ چار برسوں سے ان میں خاص طور سے اضافہ اور تیزی آئی ہے- اس میں اقتدار کی تبدیلی کا خاصاً دخل ہے- سماج کے ناپسندیدہ فسادی عناصرکو لگتا ہے کہ موجودہ اقتدار کی طاقت ہمارے ساتھ  ہے- رہی آئین و قانون کی بالاتری کی بات تو یہ ہمارے لیے زیادہ معنی و افادیت نہیں ہے- اس کے بر عکس جو کچھ ہے اسے مٹا دینا چاہیے- اس سلسلے میں سنگھ اور دیگر ہندوتووادی طاقتیں اور تنظیمیں اور ان کے نظریات و اعمال سے متاثر حکومت جس کشادگی، توسع، اور آزادی کا دعوی کرتی ہے، اس کا عمل پوری طرح اس کی تردید و تکذیب کرتا ہے- ہجومی تشدد میں اس کا پورا پورا اظہار ہوتاہے- فسادی عناصر سماج کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئین و قانون اور ملک کی عدالتیں ہمارے لیے کوئی زیادہ قابل توجہ و مانع نہیں ہیں- یہ صورت حال بہت ہی تشویش ناک ہے- اگر اس صورت حال کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی تو سماج انارکی اور لاقانونیت کا شکار ہوجائے گا، اور ہر کمیونٹی اور فرد کا عمل ہی قانون بن جائے گا- یہی تو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کاروائی کرناہے- ایسی حالت میں حکومت انتظامیہ، عدلیہ، کا وجود و عدم وجود برابر ہوجائے گا- لہذا ایسی صورت حال کو کوئی بھی مہذب معاشرہ قبول نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں ہجومی تشدد، بڑھتی نفرت کو روکنے میں ناکام ہیں- مجرموں میں قانون کا کوئی ڈر نہیں رہ گیا ہے- اس تاثر کو اقتدار کے عملی رویے سے تقویت ملتی ہے- زبانی مذمت، صرف خانہ بری اور بوقت ضرورت اپنے عمل و رویہ کو جواز فراہم کرنے کے لیے ہے-
اس سوال پر غور کرکے جواب تلاش کرنے کی بڑی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اور اس کے لیے ذمہ دار کون کون تنظیمیں یا پارٹیاں اور افراد ہیں- اس کے بعد ہی صحیح نقشہ کار تیار کیا جا سکتا ہے- اگر چہ اس سلسلے میں کچھ کام شروع ہواہے، تاہم یہ بہت محدود ہے- ڈاکٹر محمد منظورعالم کی رہ نمائی و نگرانی میں آئی او ایس نے نظریاتی و علمی طورپر بہتر آغاز کیا ہے- اس سے امید ہے کہ اپنے دائرے میں اچھے اثرات مرتب ہوں گے- جوں جوں دائرہ وسیع ہوگا، کام کا اثر بھی ہوگا جو لوگ پبلک کے درمیان کام کررہے ہیں ان کو چاہیے کہ آئی اوایس، قاضی پبلیشر اور دارالمصنیفین اعظم گڑھ کی مختلف موضوعات پر شائع کردہ تحریروں سے استفادہ کریں 10/1909 خاص طورسے 1925-1922 سے پورے تسلسل کے ساتھ مسلمانوں اور اسلام کے متعلق حد سے زیادہ نفرت پھیلائی جارہی ہے- دلتوں اور عیسائی اقلیت کے متعلق بھی نفرت اور غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم یہ مسلم اقلیت کے مقابلے میں بہت کم ہے- موب لنچنگ اور دوسرے قسم کے اشتعال انگیز اقدامات اور حملے گزشتہ دنوں کی پھیلائی نفرت و شدت کے نتائج ہیں- ہندوستان کے مسلم حکمرانوں حتی کہ اسلام کا نام لے کر ساڑھے چودہ سو سال کے حوالے سے اکثریت کے مختلف طبقات میں غلط قسم کی نفرت انگیز غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں- ان کے نام سے چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں اور بڑی عمر کے افراد کو مشتعل کر دیا گیا ہے- ایک دو مثالوں سے بات پوری طرح واضح ہوجائے گی- وشو ہندو پریشد نے رام جنم بھومی مندر کی تاریخ بتانے اور لوگوں کو پرجوش بناتے ہوئے جو پمفلٹ اور کتابیں تیار کی ہیں اور جس طرح کی اپنے لوگوں میں جوشیلی تقریریں کر تے ہیں، ان کے کچھ نمونے  265صفحات پر مشتمل کتاب “راشٹرواد کا اجودھیا کانڈ” میں شامل کیے گئے ہیں- وشوہندو پریشد کے اجودھیا آفس کی دیوار پر یہ لکھا ہوا ہے “گائے ذبح کر نے والوں کا قتل (ودھ) ہر ہندو کا مذہبی فریضہ ہے- (کتاب کا صفحہ 77) کچھ مسلم نام والے افراد بھی اپنی نادانی سے موقع بہ موقع کہتے رہتے ہیں کہ جو گائے ذبح کرے اسے پھانسی دے دو، گولی سے اڑادو- اسے افراد میں خالص سیاسی لوگ اور سیاسی ذوق کے مذہبی شناخت رکھنے والے بھی شامل ہیں- ان میں اور وشوہندو پریشد اور دیگر ہندوتوواد یوں میں کیا فرق ہے؟
چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ گائے ذبح کر نے والے کو درخت پر لٹکا کر پھانسی کی بات کرتے ہیں، اور مسلم نام والے سیاسی لیڈر اور رہنما میں کیا فرق رہ جاتا ہے، جب لیڈر اور رہنما اس طرح کی بات کرتے ہیں تو دوسرے لوگ گائے لاتے لے جاتے ہوئے ہی لوگوں کو قتل کر رہے ہیں کہ یہ گائے لازماً کاٹنے کے لیے  لے جارہے ہیں- گائے کو بالکل غلط طریقے سے ہندوو ں سے جوڑ دیا گیا ہے، جبکہ پورے ملک کی ایک سی حالت نہیں ہے- اکثریت کے سماج کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے تمہارے ساتھ بڑا ظلم اور ناانصافی و زیادتی ہوتی رہی ہے- تمہارے جذبات کا کوئی خیال نہیں رکھتا ہے آئین و قانون بنا نے میں تمہارا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے، سرکاریں، پولس وغیرہ تمہارے لیے کچھ نہیں کر رہی ہیں- اس کا یہی علاج ہے کہ تم اپنے طور پر کاراوئی کر کے مسلمانوں اور دلتوں کو سبق سکھاؤ، اسی اکساوے وجہ سے پورے ملک میں گائے بھینس بچانے کے نام پر موب لنچنگ ہو رہی ہے- جینت سنہا، گری راج سنگھ  قتل کے ملزموں کا استقبال کر کے ہجومی تشدد کی ایک طرح سے حمایت و تائید کرتے نظر آتے ہیں- آندھرا پردیش کے بی جے بی لیڈر راجا سنگھ کھلے عام ملک میں جاری ہجومی تشدد کی حمایت کے ساتھ دھمکی دیتے دکھا ئی دے رہے ہیں- ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں موب لنچنگ وغیرہ پر روک نہیں لگ سکتی ہے، جو ہجومی تشدد کا یہ ماحول بنا رہے ہیں، ان کے خلاف بھی موثر کارراوئی کی ضرورت ہے- اس کے بغیرمحض زبانی مذمت سے صورت حال میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *