نو ر صبا کو انصاف نہیں ملا تو ملک گیر احتجاج ہوگا: ویمن انڈیا موومنٹ

photo wim pcنئی دہلی ، ۷؍ مارچ (پریس ریلیز):
ویمن انڈیا موومنٹ کے زیر اہتمام نئی دہلی میں منعقد ہ ایک پریس کانفرنس میں قومی اور ریاستی سطح کے ایوارڈ سے سرفراز استاد مسعود عمر خان کی ۷۳؍سالہ بیوہ نور صبا نے کہا کہ ان کے معاملہ میں صدر جمہوریہ کی طرف سے حکومت ہند، سابق عدالتی و انتظامی اور سی بی آئی افسران ، ہوم سکریٹری کے خلاف آزاد عدالتی کمیشن قائم کرکے معاملے کی تحقیق کرنے کی منظوری بھیجے جانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت ہند نے وزیر خزانہ کے توسط سے اکھلیش یادو کی اتر پردیش حکومت کو ان کے شوہر مسعود عمر خان کے پنشن کی ادائیگی کے تعلق سے جو حکم نامہ جا ری کیا، اس پر بھی کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوئی۔
واضح ہوکہ اس سے نالاں اور دلبرداشتہ ہوکر نور صبا نے صدر جمہوریہ اور گورنر اتر پردیش کی طرف سے ان کے شوہر مسعود عمران خان کو دیے گئے سروس میڈل اور پدم شری سمیت دیگر قومی ایوارڈوں کو راشٹر پتی بھون کے سامنے نذر آتش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر ویمن انڈیا موومنٹ کی قومی صدر یاسمین فاروقی نے کہا کہ گذشتہ ۳۶؍سالوں سے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور نا انصافی کے خلاف ملک کے آئین کے دائرے میں رہ کر۷۳؍سالہ بزرگ خاتون محترمہ نور صبا وزیر سے لے کر سنتری اورصدر جموریہ سے لے کرسپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹ کھٹا چکی ہیں لیکن انہیں آج تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔ محترمہ نور صبا گذشہ کئی مہینوں سے جنتر منتر پر دھرنا دے رہی ہیں۔ ویمن انڈیا موومنٹ نے ایک بزرگ خاتون کی بے بس آواز کو مضبوطی سے اٹھانے کا عہد کیا ہے۔ نور صبا کے معاملے میں نہ صرف انسانیت بلکہ قانون اورآئین کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔نو رصبا نے ان کے ساتھ ہوئے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا جو راستہ اپنا یا ہے اس جنگ میں ڈبلیوآئی ایم ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محترمہ نور صبا کو ۷۳؍سال کی عمر میں کڑاکے کی سردی اور کھلے آسمان کے نیچے راتیں بتانی پڑیں اور ان کی یہ جدوجہد آج تک بدستور جاری ہے۔ انہوں نے قومی حقوق انسانی کمیشن ، قومی خواتین کمیشن،قومی اقلیتی کمیشن ، صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم ہو یا انسانی حقوق تنظیم اور روند کجریوال سمیت سبھی جگہ فریاد کی مگر کوئی ان کی مدد کو آگے نہیں آئے۔
یاسمین فاروقی نے کہا کہ جس طرح نور صبا کے ساتھ ہوا ہے مستقبل میں کسی بھی عام شہری کے ساتھ اس طرح کی نا انصافی نہ ہو، اس کے لیے ویمن انڈیا مو ومنٹ محترمہ نور صبا کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر نور صبا نے اپنے اوپر بیتے ظلم و ستم کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر مسعود عمر خان کی یکم جولائی ۱۹۵۹ کو رام پور کے ایک سرکاری اسکول میں براہ راست بطور ہیڈ ماسٹر تقرری ہوئی تھی۔ ان کا انتقال ملازمت کے دوران۴۵؍سال کی عمر میں۵؍ اپریل ۱۹۸۰کو ہوگیا۔ تعلیمی میدان میں قابل ذکر خدمات کے لیے انہیں صدراور گورنر کی طرف سے سروس میڈل ،پدم شری ایوارڈ سمیت پانچ تعریفی خطوط سے نوازا گیا۔ شوہر کی موت کے ۳۶؍سال گذر جانے کے بعد رشوت نہ دینے کی وجہ سے محکمۂ تعلیم نے خاندانی پنشن ،گریچوئٹی، انشورنس فنڈ وغیرہ سے ان کو محروم رکھا۔ محترمہ نور صبا نے مزید کہا کہ ان کے شوہر کی سرکاری تعلیمی خدمات کے دستاویز کو سن ۱۹۸۰میں غائب کردیا گیا۔اس کی جگہ ایک فرضی دستاویز تیار کرکے میرے شوہر مسعود عمر خان کے دستاویزات کو ایک پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل میں بدل دیا گیا جس کے بعد گورنر وشنو کانت شاستری کے حکم پر ویجلنس ٹیم نے سال ۲۰۰۰؍میں رام پور کے ضلع تعلیم افسرکے دفتر پر چھاپہ مارکر حقیقی اور فرضی دونوں ریکارڈ برآمد کرکے انہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیش کیا۔ لیکن قصوروارں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود ویمن انڈیا موومنٹ کی قومی خازن ترانہ شرف الدین نے کہا کہ یہ جنگ ایک ایسی خاتون کی ہے جو پورے سرکاری مشینری سے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ اس جد وجہد میں کئی سال گذرجانے کے بعد وہ اپنی حق کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ ویمن انڈیا موومنٹ ان کوان کا حق دلوائے گی بلکہ قصورواروں کو سزا دلوانے کے لیے ان کا ساتھ دے گی۔ محترمہ ترانہ شرف الدین نے کہا کہ ویمن انڈیا موومنٹ بزرگ خاتون نور صبا کے معاملے کو سڑک سے پارلیمنٹ تک اٹھائے گی اور ایک بزرگ خاتون کو انصاف دلانے کے لیے ملک بھر میں تحریک چلانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس پریس کانفرنس کے موقع پر ایڈوکیٹ شرف الدین ، ایڈوکیٹ اسلم اورمحترمہ نور صبا کے بیٹے عمر خان بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *