خواتین کا معاشرہ کی بہتری میں اہم کردار: ایڈوکیٹ نازیہ

ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان جلسہ سے خطاب کرتی ہوئیں

کولکاتا، (پریس ریلیز):
مسلم خواتین کواسلامی تعلیمات کے مطابق سماج میں سرگرم کردار اداکرنے کی ترغیب دیتے ہوئے معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ اگرعورت اچھی ہے، تعلیم یافتہ، سرگرم ہے، نیک و بد سے آگاہ ہے تو تومعاشرہ اچھا اور بہترہوگا۔ اگر وہ غیرتعلیم یافتہ، ناخواندہ اور بے عمل ہے تو معاشرہ بھی ویسا ہی ہوگا۔
یہ باتیں انہوں نے ہگلی ضلع کے ڈانکونی میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ جلسہ میں فرفرہ شریف کے زادہ طہ صدیقی، کولکاتا کے امام عیدین قاری فضل الرحمن، مولانا شرافت ابرار دیناج پوری، مولانا ابوطالب رحمانی اور دیگر زعمائے ملت بھی موجود تھے۔
نازیہ الہیٰ خان نے قومی شاہراہ کے مساوی واقع ڈانکونی کے وسیع اور کشادہ میدان میں ہزاروں مسلمان خواتین و مردوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق عطا کیے ہیں۔ خواتین کو اپنے حقوق کا ادراک کرتے ہوئے اسی کے مساوی معاشرہ میں اپنا سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا، اسلام نے مسلم خواتین کو چادر اور چہاردیواری کا تحفظ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کاندھوں پرمعاشرہ کی تربیت کا بھاری بوجھ بھی ڈالا ہے اوراس کے لیے پورا ایک نظام عمل متعین کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہب نہ تو تعلیم حاصل کرنے سے روکتا ہے اور نہ ہی اس تعلیم کا مثبت استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ ہم خود کوصرف نسلیں بڑھانے کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ ان نسلوں کی پرورش و پرداخت اور معاشرہ کی تربیت میں اپنا کردار منتخب کریں۔
ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ جس طرح ستون کو دیکھ کر کسی عمارت کی مضبوطی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اسی طرح معاشرہ میں عورت کی حیثیت کو دیکھ کرقوم کی عظمت اور سربلندی کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ معاشرہ کا یہ ستون اگر مضبوط ہے تو اس پر قوم کے امن وعافیت کی چھت ڈالی جاسکتی ہے۔

اسٹیج پر مہمانان کے ساتھ ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان

انہوں نے کہا کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندکی گذارنے کا ایک نقشہ دیتا ہے۔ اپنے ماننے والوں کے حقوق اور فرائض کو بھی وہ صاف صاف بتاتا ہے۔ قرآن مجید جس طرح مردوں کو مخاطب کرتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہدایات دیتا اور ان سے مطالبات کرتا ہے۔ اسلام کی رو سے دین کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ انسانی مرتبے میں عورت اور مرد برابر ہیں۔ زمانہ رسالت و خلافت میں خواتین صرف گھروں تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں اپنا آپ منوایا، جنگ کے میدان ہوں یا علم کا قلعہ ہر جگہ مسلم خواتین نے اپنی فتح کا پرچم بلند کیا ہے۔
نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ اگرعورت کا معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں اتنا اہم رول ہے تواس کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کہا کہ عصری تعلیم
انسان کو مادی طور پر بھلے ہی مستحکم بناسکتی ہو مگر تہذیب، اخلا ق اور کردارسازی میں دینی تعلیم بنیاد کی اینٹ کا درجہ رکھتی ہے اور انہیں اس کا ذاتی تجربہ ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اٹھیں، آگے بڑھیں اور دینی اعتبار سے متعین کردہ اپنے حقوق اور فرائض کو سمجھتے ہوئے معاشرہ میں اپنا کردار اداکریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *