جے این یو بچانے کی تحریک کے لیے عالمی یوم احتجاج

منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ تک مارچ آج World with JNU
نئی دہلی، یکم مارچ (نامہ نگار): جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین نے جے این یو بچا نے کی تحریک کو نئی مہمیز دیتے ہوئے آج منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کیاہے۔ یونین کی نائب صدر شہلا رشید شوری کے مطابق اس مارچ میں دہلی کی سبھی یونیورسٹیوں کے طلبہ واساتذہ کے علاوہ سماجی کارکنان،مفکرین اور عوام شرکت کریں گے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پورے ملک میں طلبہ ،اقلیتوں، دلتوں اور خاص طور سے جے این یو پرہورہی مسلسل زیادتیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس مارچ کو نکالنے کا مقصد جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمار،عمرخالد اور انیربھان کی جلدی رہائی اور دیگر ساتھیوں کے خلاف لگے غداری کے الزامات کو ختم کرنے کی مانگ ہے۔اس کے علاوہ دستور ہند سے غداری کے دفعہ ۱۲۴کو بھی ختم کرنا اس مطالبے میں شامل ہے۔اس کے ساتھ ہی حیدرآباد یونیوسٹی میں خود کشی کرنے والے طلب علم روہت ویمولاکے نام سے ایک ایکٹ بھی بنانے کی مانگ ہے، جس کے تحت یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں میں ذات کے نام پرہونے والے تعصب کو جرم قرار دیا جائے اور اس کے لیے سزا مقرر ہو۔

شہلا رشید شوری
شہلا رشید شوری

جے این یو طلبہ یونین مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل محترمہ اسمرتی ایرانی کو فوری طورسے ان کے منصب سے برخاست کرنے کا مطالبہ کررہی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے منصب کاغلط استعمال کرتے ہوئے حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی اورجواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کی اور ایک مخصوص نظریہ کے حامل طلبہ جماعت پر نشانہ سادھا۔
واضح ہوکہ اس جے این یو بچانے کی اس تحریک اور احتجاج کی حمایت میں ہندوستان سمیت دنیا بھر سے مفکرین، دانشواران اور ماہرین علوم وفنون نے اپنے اپنے پیغامات بھیجے ہیں، جن میں سرفہرست نوم چومسکی،عقیل الگرامی،ویناداس،مائکل پوئٹ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *