عالمی یوم آب اور پانی پر دفعہ ۱۴۴

w2

محمد انیس الرحمن خان

آپ حیران نہ ہوں آپ نے بالکل درست پڑھا۔ پانی حاصل کرنے کے لیے ہونے والے تنازعات کے خاتمے کے لیے مہاراشٹر کے ضلع لاتور میں مقامی کلکٹر پانڈو رنگ پول نے پانی کی ۲۰ ٹنکیوں پر پانچ آدمیوں سے زیادہ لوگوں کے یکجا ہونے پر پابندی عائد کردی ہے ،یہ حکم آئندہ۳۱؍ مئی تک قائم رہے گا۔ کلکٹر نے یہ حکم سی آر پی سی کی دفعہ ۱۴۴کے تحت جاری کیا ہے ۔واضح ہو کہ لاتور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کا آبائی وطن ہے۔ پینے کے پانی کی سنگینی کا اندازہ مذکورہ واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
پانی کی ضرورت، اہمیت اور قلت کے سبب ہرسال ۲۲مارچ کو عالمی یوم آب منایاجاتا ہے۔اس کا آغاز۲۲؍مارچ سن۱۹۹۳ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا۔ مگر سوال یہ پیداہوتا ہے کہ عالمی یوم آب کیوں منایاجائے؟ جواب درجنوں ہوسکتے ہیں کیونکہ ہر انسان اپنی اپنی قابلیت، لیاقت اور تجربے کے حساب سے ہی اس کا جواب دے گا،اور دینا بھی چاہیے۔مگر میرے حساب سے عالمی یوم آب کا مقصد یہ ہے کہ عوام الناس کو پانی کی اہمیت و افادیت سمجھا کرانہیں پانی کی حفاظت کے لیے بیدار کیا جائے تاکہ پھر کہیں اس مسئلے پر دفعہ ۱۴۴لگانے کی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ اشرف المخلوقات کے علاوہ ہر جاندار، چرند،پرند،نباتات، جمادات، حیوانات سبھی کو ہمہ وقت پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ روئے زمین کا تین حصہ پانی ہے، مگر قابل استعمال پانی کی مقدار بہت کم ہے ۔ اس لیے پانی کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
ناسا نے دعویٰ کیا ہے کی مریخ پر نمکین پانی جیسی کوئی چیزپائی گئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق عموماََ ۴ اعشاریہ ۵ ارب سال پہلے مریخ پر ابھی کے مقابلے میں ساڑھے چھ گنا زیادہ پانی تھا لیکن زمین کی طرح مریخ پر مقناطیسی علاقہ کی موجودگی نہ ہونے کے سبب یہ پانی غائب ہو گیا۔ بظاہر تو زمین پر پانی کی مقدار خشکی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے یعنی تقریباً۷۱؍فیصدپانی ہے جبکہ صرف ۲۹؍ فیصد خشکی میں ہی زندگی کا گذر بسر ہوتا ہے۔ لیکن اس ۷۱؍ فیصدپانی میں سے بھی صرف۲ء ۵ (دو اعشاریہ پانچ ) فیصد پانی ہی پینے کے لائق ہے جبکہ ۹۷ء ۵ فیصدنمکین پانی ہے اور اس میں بھی ۷۰؍ فیصد پانی برف کی شکل میں انٹارٹیکا اور گرین لینڈ)میں جمع ہوا ہے ۔ باقی بچا ہوا کچھ مٹی میں نمی کی شکل میں اور کچھ زیرِ زمین ہے جو انسان کی پہنچ سے باہر ہے جس کے سبب زمین پر موجود پانی کے کل حصے کا صرف ایک فیصدہی ہم روزمرہ کی زندگی میں استعمال کر پاتے ہیں ۔ زمین پر پانی کی بہتات کی وجہ سے زمین کو ’’نیلا سیارہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اوراس نیلے سیارہ پر موجودمختصرسی مقدار کے قابلِ استعمال پانی پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کا انحصارہے۔ مگر اس کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اس نعمت کو ضرورت سے کم مقدار میں دیا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم جس طریقے سے اس کو استعمال کرتے ہیں وہ غلط ہے ۔ سائنسدانوں نے اس تعلق سے آگاہ کیا ہے کہ سال ۲۰۲۵ء تک دنیا کے دو تہائی ملکوں کوپانی کی کمی سے خطرناک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،جبکہ ہمارے ملک ہندستان میں ۲۰۲۰تک ہی ایسے پُر خطر حالات بن سکتے ہیں ۔
اگر ہم اپنے ملک ہندوستان کے تاج اور ’’فردوس برروئے زمین‘‘ یعنی جموں و کشمیر کو دیکھیں تو مالکِ کائنات نے اس ریاست کو قابلِ استعمال اور صاف پانی کی بہتات سے نوازا ہے۔ دریاؤں، ندیوں اور جھیلوں کے علاوہ یہاں پرپائی جانے والی ایک خاص نعمت یہاں کے میٹھے اور صاف و شفاف قدرتی چشمے ہیں ۔چشمہ کے پانی کو سب سے زیادہ صاف و شفاف تسلیم کیا جاتا ہے ۔یہ ریاست ان چشموں کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں مشہورہے۔ اب چشموں کی بھی الگ الگ قسمیں ہوتی ہیں، کچھ ایسے چشمے ہوتے ہیں جن میں سال بھر پانی ایک ہی مقدار میں رہتا ہے۔ مگر کچھ چشمے ایسے ہوتے ہیں جوموسم گرما میں خشک ہو جاتے ہیں۔ ریاست کے دیہی علاقوں کی زیادہ تر آبادی انہی چشموں پر منحصر ہے اور وہ پانی کے ان چشموں کا استعمال اپنی عقل و فہم کے مطابق کرتے ہیں۔ ان چشموں کی مناسب دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی یہ چشمے زمین کے نیچے اپنا راستہ بنا لیتے ہیں۔ ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے بہت سے دیہی علاقے ایسے ہیں جن میں خشک موسم کے دوران چشمے سوکھ جاتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر انسان ہی نہیں بلکہ بے زبان حیوان بھی پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔ خاص طور سے ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہوجاتا ہے اور اکثر اوقات خدائے تعالیٰ کے اس عظیم تحفہ یعنی پانی کے لیے آپس میں لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں ۔
تحصیل سرنکوٹ کے سب سے دوردراز علاقہ ’’ہل کاکا‘‘میں جوہر طرح سے پچھڑا ہوا اور نظر انداز ہے،لوگوں کی گذر اوقات کا دارومدار زیادہ تر مال مویشی پر ہی ہے۔مقامی باشندہ وزیر محمد نے بتایا کہ ’’ہل کاکا میں محکمہ کی طرف سے کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔ ایک جگہ تھوڑا سا جمع ہوا پانی ہے جسے نہ صرف ہم لوگ پینے اور دوسری ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ یہیں سے تقریباً روزانہ ۸۰سے ۱۰۰ بھینسیں بھی پانی پیتی ہیں‘‘۔ فکرمند اور خوفزدہ عوام کے مطابق اب یہ پانی بھی پانچ دنوں بعد خشک ہو جائے گا۔
ہندو پاک سرحد پر ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والا علاقہ بالاکورٹ محتاج تعارف نہیں۔ پونچھ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً ۱۰۰؍کلومیٹر کی دوری پر واقع بالاکورٹ گاؤں کی ایک معمر خاتون مضفودہ کے مطابق ’’ہمارے یہاں سب سے بڑی پریشانی پانی ہی کی ہے کیونکہ ہم لوگ سردیوں میں تقریباً دو کلومیٹر دور سے پانی لاتے ہیں ،جبکہ گرمیوں میں چار کلومیٹرکا فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے گھر والوں کی پیاس بجھانی پڑتی ہے ،حکومت کی طرف سے کسی طرح کا کوئی انتظام نہیں ہے،لیکن کیاکریں پانی تو انمول ہے، حاصل کرنے کے لیے سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے،کبھی کوئی شادی وغیرہ کی تقریب ہو تو کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتی ہے۔‘‘ اسی طرح ۶۵؍سالہ محترمہ بلقس کہتی ہیں کہ’’ہمارے مال مویشی جو ہمارے اہل وعیال کے لیے لالن پالن کا اہم ذریعہ ہیں، ان کے لیے بھی پانی اپنے اپنے سروں پر لانا پڑتا ہے،کیا ہم ہندوستانی نہیں ہے؟ ‘‘ان کی بہوکہتی ہیں کہ ’’سروں پر پانی لانے کی وجہ سے ہم لوگوں کی صحت متاثر ہوتی ہے ۔‘‘ اسی گاؤں میں فوج کے ذریعہ چلائے جارہے اسکول میں ٹیچر کے طور پر کام کرنے والی محترمہ نازیہ کہتی ہیں کہ’’گاؤں میں یقیناًپینے کے پانی کی ایک اہم پریشانی ہے جس کی طرف حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ،ہم گاؤں والے شکر گذار ہیں ان ہندوستانی فوجیوں کے جو ہمارے بچوں کو نہ صرف تعلیم دلارہے ہیں بلکہ دن میں ایک دو مرتبہ پینے کا پانی بھی مہیا کرارہے ہیں، ان کی گاڑی آتی ہے اور گاؤں والوں کے لیے پینے کا پانی ان کے برتنوں میں بھر کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ مگر اس کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جانا بہت ضروری ہے، کیونکہ ایک بڑی آبادی پینے کے پانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے، شادی بیاہ، موت و حیات جیسے موقعوں پر پانی کی ضرورت اور زیادہ ہوجاتی ہے ۔‘‘
حالانکہ حکومتی سطح پر پانی کے لیے ایک الگ محکمہ اوروزارت بھی مو جود ہے جسے’’ محکمۂ صحتِ عامہ‘‘ کے نام سے جاناجاتاہے۔دیہی علاقوں میں پانی کی سپلائی میں بہتری لانے کے لیے ۱۰۔۲۰۰۹ میں قومی دیہی آبی سپلائی پروگرام کو بدل کر
دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا قومی پروگرام کر دیا گیا ۔ یہ مرکزی حکومت کی اسکیم ہے DSCN3697
جس کو ریاست میں نافذ کرنے کے لیے اپریل ۲۰۱۳ء میں ریاستی آبی و صفائی مشن اور اسی طرح ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن مشن کے تحت کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جس کا چیئر پرسن ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنرہوتا ہے۔ اسی طرح سرپنچ کی قیادت میں گاؤں کی سطح پر بھی کمیٹی بنائی گئی۔ اس سب کے باوجود اگر زمینی سطح پر دیکھا جائے تو یہ سب کاغذوں تک ہی محدود نظر آتے ہیں ،عوام کو اس سے فائدہ نہیں کے برابر ملتا ہے۔ پونچھ میں انٹی گریٹڈ واٹر شیڈ منیجمنٹ کے ڈسٹرکٹ ٹیکنیکل ماہر کفیل بھٹی نے بتایا کہ ہمارا بھی بنیادی مقصد پانی کی دیکھ ریکھ اور اس کاتحفظ ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں میں پانی کے صحیح استعمال کی معلومات بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم صرف پروجیکٹ علاقے ہی میں کام کر سکتے ہیں۔ جس میں ہم نے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے چشموں کے نزدیک اسٹور ٹینک بھی بنوائے ہیں اور مزید بنوا بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہارویسٹنگ ٹینک اور چھوٹی ٹنکیاں بھی بنوائی جاتی ہیں، مگر ہمارے پاس ایک محدود علاقہ ہی ہوتا ہے۔مختصر اً،ہم اگر زمینی سطح پر پانی سے منسلک پریشانیوں کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس محدود وسائل ہیں۔ حالانکہ حکومت کی ویب سائٹوں اور کاغذی فائلوں میں ایسی بے شمار اسکیمیں اور گرانٹس ہیں جس کا درست استعمال زمینی سطح پر ہو جائے تو پانی کی پریشانی سے عوام کو نجات دلائی جاسکتی ہے۔
نوٹ: درج بالا مضمون نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا(این ایف آئی) کے ذریعہ دیے گئے فیلوشپ کے تحت لکھا گیا ہے۔
(anis8june@gmail.com
7042293793)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *