اردو کونسل سے متنازع اقرارنامہ واپس لینے کا مطالبہ

11 (2)ممبئی، ۲۵؍مارچ (نامہ نگار) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ مالی تعاون اسکیم سے استفادہ کے خواہشمند اردو کے تخلیق کاروں کو بھیجے گئے اس اقرار نامہ کو واپس لینے کا مہاراشٹر کے اردو، ہندی اور مراٹھی کے ادیبوں، قلمکاروں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے ، جس میں درخواست دہندہ سے گواہوں کے سامنے یہ اقرار کرنے کی بات کہی گئی ہے کہ اس کی کتاب حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نہیں ہے۔ ان قلمکاروں اور دانشوروں نے قومی کونسل کے مذکورہ اقرارنامہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین ہند کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین نے ہندوستان کے شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے اور اس کی تنقید کرنے کا حق دیا ہے ۔
قومی کونسل کے اس قدم کی مذمت کرنے کے لیے سماجی کارکنوں ، ادیبوں اور قلمکاروں نے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں مشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق، معروف شاعر شمیم عباس، ہندی کے مشہور قلمکار ہردیش میانک اور مراٹھی کے نامور ادیب مورے سمیت بہت سی اہم شخصیات نے شرکت کی۔میٹنگ کے شرکاء نے قومی کونسل کے ڈائریکٹر کو ارسال ایک مکتوب میں مذکورہ اقرارنامہ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط پر سلام بن رزاق اور رحمن عباس سمیت۲۵؍ ادیبوں، شاعروں اور سماجی کارکنوں
نے دستخط کیے ہیں۔ncpulncpul1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *