چمپارن کے ہر گھر میں ایک نوجوان کو سرکاری ملازمت: رضوان ریاضی

پرسا ڈمریا کے عظیم الشان ایک روزہ تعلیمی بیداری کانفرنس میں علماے کرام اور دانش وران کا جمگھٹ
مجھولیا (پریس ریلیز): پرسا ڈمریا میں کل ایک عظیم الشان تعلیمی بیداری کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت قرآن گھر اکیڈمی، بتیا اور آل انڈیا التقویٰ ایجوکیشنل گروپ کے چیرمین رضوان ریاضی نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا امیرالہٰدیٰ فیضی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اس جلسے میں مولانا نیاز احمد فیضی، مولانا مطیع الرحمن قاسمی، قاری جنید عالم قاسمی، مولانا امیر حمزہ، مولانا ہاشم فیضی، مولانا صدر عالم اور حبیب الرحمن نے اپنی تقریریں پیش کیں۔ اس موقع سے اسٹیج پر قاری بشیر بھی موجود تھے۔
اس تعلیمی بیداری کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے صدر جلسہ رضوان ریاضی نے آج ملک میں زور و شور سے چل رہے طلاق ثلاثہ کے متعلق اپنی واضح اور دو ٹوک آراء کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حکومت کی شرپسندی سی بچیں اور ہمارے رسول ؐ نے اور اسلاف نے اس معاملے میں جو راہ اپنائی ہے، اس کا اتباع کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی موت کے بارے میں نہیں جانتے۔ کل کیا ہوگا یہ بھی نہیں جانتے۔ اس لئے ہمیں ہمہ وقت آخرت کی تیاری میں لگے رہنا چاہئے۔ اس موقع سے معروف عالم دین مولانا نیاز احمد فیضی نے ایک نعتیہ کلام پیش کرئے ہوئے بہت اختصار لیکن جامعیت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کی بابت کئی اہم نکات پیش کئے۔ ناظم جلسہ امیرالہدیٰ نے بہت ہی مدلل اور منطقی انداز میں موجودہ وقت میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ عنقریب ہی ستیہ گرہ وکاس پارٹی چمپارن کی سرزمین پر لانچ ہونے والی ہے۔ اس پارٹی کے قومی صدر رضوان ریاضی ہوںگے۔  ریاضی کے منشا اور منصوبے کے مطابق اس پارٹی کے منشور میں سب سے پہلا یہ کام ہوگا کہ علاقے کے ہر گھر میں ایک سرکاری ملازمت ہوگی۔ نیز گاؤں میں ڈاکٹر اور انجینئر بنانے پر ہوم ورک شروع ہوچکا ہے۔ اس کانفرنس میں مولانا مطیع الرحمن قاسمی نے ویدوں میں رسالت کے ذکر کا حوالہ دیتے ہوئے ویدوں اور دوسری مذہبی کتب میں وحدانیت پر روشنی ڈالی۔ مولانا امیر حمزہ نے صحابہ کرام کے اوصاف کو اپنا موضوع بنایا۔ اس موقع سے محمد ہاشم فیضی کی نعت اور تقریر اور صدر عالم اور حبیب الرحمن کے نعتیہ کلام نے سامعین کے جم غفیر کو مستفیض کیا۔
ایم ایل اے (بتیا مجھولیا) مدن موہن تیواری نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اپنی تقریر میں مدارس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جلسے کے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور دوکمرے بنوانے کا اعلان کیا۔ جلسے کے محرک قاری محمد مسلم نے کانفرنس کے اخیر میں تمام علماے عظام اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *