ہند۔ایران کے مابین باہمی تعاون کے وسیع امکانات: ذاکر حسین

نئی دہلی، ۲۶؍ دسمبر(نامہ نگار): ہندوستان اور ایران کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں ، اس سے استفادہ کتنا زیادہ اٹھایا جاتا ہے، یہ دونوں ملکوں کی سیاسی لیڈرشپ پر منحصر ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف تجزیہ کار ڈاکٹر ذاکر حسین نے نیوز ان خبر ڈاٹ کام کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کیا۔

انڈین کونسل فار ورلڈ افیئرس (آئی سی ڈبلیو اے) میں ریسرچ فیلو کے طور پر بین الاقوامی امور میں تحقیق و تدوین کے فرائض انجام دے رہے ذاکر حسین نے کہا کہ ہندوستان اورایران قدیم زمانے سے ایک دوسرے کے قریبی رہے ہیں ، اور نئی دہلی نے برے وقت میں بھی تہران کا ساتھ دیا ہے۔
ذاکر حسین نے مزید کہا کہ تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں باہمی تعاون کے علاوہ بھی بہت سے ایسے شعبے ہیں ، جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے تک ہندوستان کو تیل برآمد کرنے کے معاملے میں ایران دوسرے نمبر پر تھا ، لیکن اب اس ۔ کی ساتویں پوزیشن ہے۔ اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے جہاں ایران خواہشمند ہے ، وہیں ہندوستان بھی اپنے دیرینہ دوست ملک سے تیل کی درآمدات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اب ہندوستان صرف ایک خریدار یا صارف کے طور پر معاملات طے نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک شریک اور حصہ دار کی حیثیت چاہتا ہے۔

ذاکر حسین نے کہا کہ ایران چند سال پہلے روزانہ کم وبیش ۱۲؍ لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کرتا تھا، جس میں اسے امریکہ و یورپی ملکوں کی طرف سے عائدکردہ پابندی کے سبب بہت کمی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیائی معاملے پر سمجھوتہ کے بعدتہران کے خلاف عائد پابندیاں جلد ہی ختم ہونے والی ہیں، ایسے میں ایران اپنے توانائی کے شعبے کو نئی توانائی کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔ اس کے لیے اسے کم وبیش ۹۰ ؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ہندوستان کی نجی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ایران اپنی پالیسیوں میں خاطرخواہ تبدیلی لائے۔

توانائی کے شعبے کے علاوہ دونوں ممالک بنیادی ڈھانچوں کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔ایران میں ایک طرف جہاں بڑے پیمانے پر نئے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر کی ضرورت ہے، وہیں اس کے پرانے بنیادی ڈھانچوں کی تجدیدکاری میں بھی ہندوستان مدد کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ اطلاعاتی، خلائی اور میزائل ٹکنالوجی کے شعبوں میں بھی ہندوستان اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے میزائل کے شعبے میں ایک بڑی جست لگائی ہے اور اس ٹکنالوجی میں ہندوستان کا لوہا دنیا مان چکی ہے۔ اسی طرح دواسازی بھی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ماضی میں ایک دوسرے کے نہایت ہی قریب رہے دو ممالک ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں کینسر کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے علاج ومعالجے کے لیے نیوکلیئر آئسوٹوپ کی ضرورت ہے اور اس میں بھی ہندوستان اپنے پرانے دوست ملک ایران کی مدد کے لیے آگے آسکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر ذاکرحسین نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان باہمی تعلقات اور تعاون کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی بلکہ دونوں ممالک ہر شعبے میں اور ہر سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام کرسکتے ہیں کیونکہ دونوں کے مابین کوئی سیاسی تنازعہ یا اختلاف نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *