زبیر رضوی ہمارا عظیم سرمایہ تھے: عبدالرحمن

نئی دہلی، (نامہ نگار): معروف وکیل اور عالمی اردو ٹرسٹ کے بانی چیئرمین عبدالرحمن نے ممتاز ادیب و دانشور زبیر رضوی کے انتقال پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کو اردو زبان وادب کے ساتھ ہی ملک وملت کا بھی بڑا نقصان بتایا۔ انہوں نے ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زبیر رضوی ہمارے بچپن کے ساتھی تھے اور ہم ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔
زبیر رضوی کو اردو زبان وادب کا عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے عبدالرحمن نے کہا کہ ہمارے اور ان کے سیاسی نظریات آپس میں میل نہیں کھاتے تھے۔ اس کے باوجود ہم ان کا احترام کرتے تھے کیونکہ وہ ایک مثبت سوچ کے مالک تھے اور تعمیری کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ زبیر رضوی نے اردو زبان و ادب کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے ، اور اب اس میراث کی حفاظت اردو والوں کی ذمہ داری ہے۔

زبیر رضوی کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے معروف شاعر متین امروہوی نے کہا کہ یہ سانحہ ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا ۔ اس وقت وہ بھی اردو اکادمی کے سمینار میں شریک تھے جب رضوی صاحب اپنا صدارتی خطبہ پیش کررہے تھے اور اچانک انہیں بے چینی ہوئی ۔ابھی لوگوں کو ٹھیک سے سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا کہ کیا ہوا، اتنے میں انہیں ایک الٹی ہوئی ، ہچکی آئی اور جناب رضوی اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *