ظلم جب حد سے بڑھتا ہے فنا ہوجاتا ہے:نظرعالم

نظر عالم
بابری مسجد کا فیصلہ آچکا ہے، عدالت عظمیٰ نے انصاف کیا یا نہیں یہ بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ملک کی کثیرآبادی جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں نے اس فیصلے پر اپنی خاموشی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرلیاہے۔ وہیں دوسری جانب کچھ مسلم رہنماؤں نے اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس فیصلے کو افسوسناک بتایا ہے۔ اسی جماعت نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بھی بات کی ہے اور کررہے ہیں۔ یہ لوگ چاہے جن نتیجوں پر پہنچیں پر اتنا تو صاف ہے کہ عدالت کا موقف اب بدلنے والا نہیں!
ہم سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں۔ باقی رہنے والی قوم کون ہے اور مٹ جانے والی قوم کون ہے؟حق آیا باطل کو مٹنا ہی ہوگا، پر کچھ شرائط ہیں! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ عمل کے اعتبار سے اگر ابھی پورے زمین پر سب سے بدترین قوم اگر کوئی ہے تو وہ ہم ہی ہیں۔ ہم نے اپنے سبق بھلادئیے۔ ہمارا یہ کام نہیں تھا جو ہم کررہے ہیں۔ ہمیں تو امامت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ مگر ایسا کیا ہوا کہ ہم دنیا میں مقتدی بھی نہیں رہے۔ غور کرنے کی ضرورت ہے:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دُنیا کی امامت کا
ان سب سے قطع نظر اب آئیے ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر ایک سرسری نظرڈالتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلوں میں جو کچھ کہا، لکھا اُن میں سے کچھ اہم نکات آپ کے سامنے رکھتے ہیں:
۱۔ بابری مسجد، مندرتوڑ کر بنائی گئی اس کی کوئی دلیل ہمیں نہیں ملتی۔
۲۔ بابری مسجد کھدائی میں غیراسلامی ڈھانچے کے کچھ ثبوت ملے ہیں مگر اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مسجد مندر توڑ کر ہی بنائی گئی تھی۔
۳۔ سال 1949ء کے آس پاس مسجد میں بُت کا رکھنا غیرقانونی تھا اور ہے۔
۴۔ سال 1992ء کو مسجد کے ڈھانچے کو توڑ کر گرادینا یہ بھی غیرقانونی ہے۔
۵۔ بابری مسجدکی جگہ مندر کو دی جاتی ہے اور رام للّا کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
۶۔ مسجد کے لئے ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جاتی ہے جس پر کہ مسجد تعمیر کی جاسکے۔
مذکورہ نکات پر جب ہم غور کریں گے تو یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت کے دباؤ میں فیصلہ تو لیا ہے مگر اُنہیں بھی جشن منانے کا موقع نہیں دیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی قوم سے انصاف اگر نکل جائے کسی ملک کی عدالت عظمیٰ ہی بکنے لگے تو ملک اور قوم کا کیا ہوگا؟
 آئیے!ہم آپ کو اِس کا جواب دیتے ہیں، حدیثوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عنقریب پوری دنیا عالم اسلام کے خلاف متحد ہوجائے گی۔ جنگ کے کچھ پہلے عیسائی قوم اِن سے الگ ہوکر مسلمانوں کے ساتھ مل کر مخالف جماعتوں سے جنگ کریں گی اور اس جنگ میں فتح  مسلمانوں اور عیسائیوں کے مشترکہ جماعت کو نصیب ہوگی پھر فتح کے بعد یہ دونوں آپس میں اس بات کو لیکر لڑجائیں گے کہ فتح اللہ کی وجہ سے ہوئی یا مسیح کی وجہ سے؟ اس جنگ میں مسلمانوں کی شکست ہوگی اسی درمیان پھر عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا“ پھر آگے کا واقعہ اُسی طرح ہے جیسا کہ ہم آپ جانتے ہیں۔
ہمیں صرف بتانا یہ مقصود تھا اِن باتوں سے کہ اُمت محمدیہ باقی رہنے والی قوم ہے، آپ دوسروں کی فکر کیوں کرتے ہیں کہ وہ باقی رہیں گی یا ختم ہوجائیں گی بلکہ آپ اس فکر میں رہیں کہ آپ اُن تک حق کیوں نہیں پہنچاپارہے ہیں۔
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کا موقف بابری مسجد کے فیصلے کو لیکر بالکل عیاں ہے اور وہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اِس کیس میں دو ہی جماعتوں کو پارٹی مانا ہے ایک سنی وقف بورڈ اور دوسری جماعت رام للّا کی ہے تو تیسرے کو اس معاملے میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ چاہے وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہو یا جمعیۃ علماء ہند یا خود اویسی صاحب اِن تینوں مسلم خیرخواہوں سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کو قوم و ملت کی اِتنی ہی فکر ہے تو آپ اِن کے لئے تعمیری کام کیوں نہیں کرتے؟
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی نہ تائید کرتا ہے اور نہ ہی تردید کرتا ہے بس اِتنا کہنا چاہتا ہے کہ جس قوم کو خود فکر نہ ہو بدلنے کا، ترقی کرنے کا، دنیا کی امامت کرنے کا، اُس قوم کی تقدیر کون بدل سکتا ہے۔ ہم اُن جماعتوں کے لوگوں سے کہناچاہتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت پیسے ہیں اتنے کی آپ تینوں مل کر چاہیں تو ہندوستان ہی نہیں اس ملک جیسا کتنے اور ملک پورے کے پورے خرید سکتے ہیں۔ اب آپ بابری مسجد کے فیصلوں پر بحث و مباحثہ کرکے اُمت کا وقت اور خراب نہ کریں۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو اِن کے لئے عالمی پیمانے کے کوئی عصری ادارے کھولیں، عالمی پیمانے کے ہاسپیٹل بنائیں، عالمی پیمانے کے مدرسے بنائیں۔
کاش کے آپ لوگ سمجھ پاتے!
تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply